پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کون کرے گا؟حکومت نے ٹھیکہ فائنل کرلیا،اربو ں ڈالرز کے منصوبوں کے بارے میں ایسا فیصلہ کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آ ئی این پی) واپڈا نے دیامر بھا شا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ مقامی انجینئرنگ کمپنیز کو دینے کا فیصلہ کیا ہے،بین الاقوامی معیار کی مقامی انجینئرنگ کمپنیوں کیلئے اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے، فیصلے سے پاکستان ٹیکنالوجی سے متعلق صلاحیتوں میں خودمختار ہوگا اور سماجی، اقتصادی شعبوں میں ترقی کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق واپڈا نے کافی عرصہ سے تاخیر کا شکار مہمند اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ مقامی انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ماضی میں پاکستان ڈیموں کی بحالی کے کاموں کیلئے اہم کردار بین الاقوامی کمپنیوں کو دیاجاتا رہا ہے جس کے باعث پاکستان کے مقامی انجینئرز کی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ اب واپڈا کی جانب سے مقامی انجینئرز کو ٹھیکے دینے کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے پاکستان ٹیکنالوجی سے متعلق صلاحیتوں میں خودمختار ہوگا اور سماجی، اقتصادی شعبوں میں ترقی کرے گا۔اس فیصلے کے بعد کچھ گروہ اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے منفی پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہیں کہ پاکستانی انجینئرز میں اتنی صلاحیت اور قابلیت نہیں کہ بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں پر کامیابی کے ساتھ کام کر سکیں۔اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جہاں ضرورت پڑی مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کمپنیوں سے مدد حاصل کریں گی۔ ملکی انجینئرز کو ذمہ داری دینے کے ٖفیصلے سے پاکستان کے اندر قابل انجینئرز کی کھیپ پیدا ہوگی اور با صلاحیت انجینئرز کو اپنی حلاحیت اور قابلیت ثابت کرنے کا موقع ملے گا امید کی جاتی ہے کہ مفاد پرست ٹولے کے پروپیگنڈے کے باوجود یہ منصوبہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگا۔ واپڈا نے دیامر بھا شا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ مقامی انجینئرنگ کمپنیز کو دینے کا فیصلہ کیا ہے،بین الاقوامی معیار کی مقامی انجینئرنگ کمپنیوں کیلئے اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…