اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ سب مل کر کرپشن یونین بنا لیں، جو نہیں کر سکتے ٗاپوزیشن کے جائز مطالبات پورے کرنے کیلئے تیار ہیں ٗ احتساب کا سلسلہ رکنے والا نہیں ٗ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پر روکا ٗسانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کی عہدوں پر موجودگی آئی جی کو ہٹانے کی بڑی وجہ ہے ٗبیوروکریسی کو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا ٗشہباز شریف کی خود کرائی گئی
تفتیش پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ ۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات چوہدر ی فواد حسین نے کہاکہ سپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کا پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا ہے ٗتحریک انصاف نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ سب مل کر کرپشن یونین بنا لیں، جو نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مینڈیٹ کرپٹ نظام کے خلاف ہے تاہم اپوزیشن کے جائز مطالبات پورے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وزیرا طلاعات نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ لوٹے ہوئے پیسوں کا ہم سے حساب نہ لیا جائے ٗاربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ، علاج پر ہزاروں پاؤنڈ خرچ کیے گئے ٗاحتساب کا سلسلہ اب رکنے والا نہیں۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پر روکا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تبادلہ روکنے پر خط لکھ دیا ہے ٗالیکشن کمیشن کو لکھا ہے کہ تبادلہ روکنے کا فیصلہ قانون سے بالا ہے ٗآئی جی پنجاب کو تفتیش پر موثر عمل درآمد نہ کرنے پر تبدیل کیا گیا ٗآئی جی پنجاب کو پالیسی معاملات پر تبدیل کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کی عہدوں پر موجودگی آئی جی کو ہٹانے کی بڑی وجہ ہے ٗبیوروکریسی کو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔چودھری فواد حسین نے کہا کہ جمہوری نظام میں نگرانی کا سیاسی نظام موجود رہتا ہے ٗ
بیورو کریسی کو ارکان پارلیمنٹ کا احترام کرنا پڑیگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 28ارب ڈالر کے سالانہ اخراجات ہیں ٗرواں سال قرضوں کی واپسی کیلئے 8ارب ڈالر درکارہیں ۔انہوں نے کہا کہ وجوہات کی تلاش کے لیے معاشی بحران پر پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن معاشی بحران پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیوں نہیں کرتی ؟اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ معاشی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ معاشی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔



















































