پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آئی جی پنجاب کے ہٹانے کے معاملے پر بڑا تنازعہ شروع،ٗبیوروکریسی کو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا،حکومت ڈٹ گئی، دھماکہ خیز اقدامات کا اعلان

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ سب مل کر کرپشن یونین بنا لیں، جو نہیں کر سکتے ٗاپوزیشن کے جائز مطالبات پورے کرنے کیلئے تیار ہیں ٗ احتساب کا سلسلہ رکنے والا نہیں ٗ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پر روکا ٗسانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کی عہدوں پر موجودگی آئی جی کو ہٹانے کی بڑی وجہ ہے ٗبیوروکریسی کو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا ٗشہباز شریف کی خود کرائی گئی

تفتیش پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ ۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات چوہدر ی فواد حسین نے کہاکہ سپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کا پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا ہے ٗتحریک انصاف نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ سب مل کر کرپشن یونین بنا لیں، جو نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مینڈیٹ کرپٹ نظام کے خلاف ہے تاہم اپوزیشن کے جائز مطالبات پورے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وزیرا طلاعات نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ لوٹے ہوئے پیسوں کا ہم سے حساب نہ لیا جائے ٗاربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ، علاج پر ہزاروں پاؤنڈ خرچ کیے گئے ٗاحتساب کا سلسلہ اب رکنے والا نہیں۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پر روکا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تبادلہ روکنے پر خط لکھ دیا ہے ٗالیکشن کمیشن کو لکھا ہے کہ تبادلہ روکنے کا فیصلہ قانون سے بالا ہے ٗآئی جی پنجاب کو تفتیش پر موثر عمل درآمد نہ کرنے پر تبدیل کیا گیا ٗآئی جی پنجاب کو پالیسی معاملات پر تبدیل کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کی عہدوں پر موجودگی آئی جی کو ہٹانے کی بڑی وجہ ہے ٗبیوروکریسی کو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔چودھری فواد حسین نے کہا کہ جمہوری نظام میں نگرانی کا سیاسی نظام موجود رہتا ہے ٗ

بیورو کریسی کو ارکان پارلیمنٹ کا احترام کرنا پڑیگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 28ارب ڈالر کے سالانہ اخراجات ہیں ٗرواں سال قرضوں کی واپسی کیلئے 8ارب ڈالر درکارہیں ۔انہوں نے کہا کہ وجوہات کی تلاش کے لیے معاشی بحران پر پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن معاشی بحران پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیوں نہیں کرتی ؟اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ معاشی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ معاشی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…