کوئٹہ(این این آئی)چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ سی پیک چین اور پاکستان کا مشترکہ منصوبہ ہے ان کو ہر صورت میں ملکر کامیاب بنائینگے سی پیک میں بلوچستان بہت اہم ہے گوادر کے علاوہ حب میں ہاور پلانٹ قائم کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تجویز پر کوئٹہ میں سوشو اکنامک سینٹر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس پر جلد کام کا آغاز کرینگے کوئٹہ میں چینی سفار ت خانے کے حوالے سے اپنی حکومت سے بات کرونگا
تاہم کراچی سفارت خانہ گوادر اور کوئٹہ کے کاموں کی مانٹیرنگ کررہا ہے ہائے ویز کے زریعے 5 سالوں میں تمام علاقے ایک دوسرے کے مل جائیں گے چائنہ حکومت بلوچستان میں تعلیم کے سلسلے میں مکمل تعاون اور چائنا کی جانب سے طلباء کو سکالر شپ فراہم کررہی ہے نئی حکومت کے آنے کے بعد ترجیحات طے کرنے آئے ہیں ،یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے ، انہوں نے کہاکہ میں نے کوئٹہ کا دو روزہ کامیاب دورہ کیا جس میں گورنر بلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ،سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو ،چیمبر آف کامرس اور دیگر سے مذاکرات کرکے کاروبار اور سی پیک کے حوالے سے بات چیت کی اور انہوں نے ہمیں مکمل تعاون اور ایک ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرائی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین ایک پارٹنر اور دوست ممالک ہے سی پیک کے حوالے سے ایک دوسرے کواعتماد میں لیکر پالیسی بنارہی ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات کے بعد نئی حکومت آئی جس کیلئے ہماری خواہش ہے کہ جس طرح سابقہ حکومت کے ساتھ چل کر سی پیک کے حوالے سے ایک ساتھ چل کر پالیسی بنائینگے اسی طرح نئے حکومت سے بھی ہماری خواہش ہے کیونکہ سی پیک پاک چائنا کا مشترکہ پروجیکٹ ہے
اور اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک کوکامیاب بنانے کیلئے میڈیا کے تجاویز پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کرینگے انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے کو تھرڈ پارٹی کیلئے کھلا رکھا گیا ہے سعودی عرب بین الاقوامی طور ہر مستحکم پارٹی ہے انہوں نے کہاکہ مشرقی اور مغربی روٹ کوئی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا سی پیک چین اور پاکستان کا مشترکہ منصوبہ ہے ان کا کہنا تھا کہ پھلوں کی مارکیٹنگ اور محفوط کرنے میں معاونت کرینگے
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری خوارک کے شعبے میں ترقی کے مواقع موجود ہیں کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں چین کے قومی دن پر بہترین انتظامات کئے گئے تھے انہوں نے کہاکہ سی پیک کے نئے منصوبے باہمی اشتراک سے شروع کرینگے بلوچستان سی پیک منصوبے کی بنیاد ہے گوادر کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ،قومی شایراں اور صنعتی زون کا قیام کرینگے انہوں نے کہ اکہ سی پیک کے تحت پبلک پرائیویٹ سیکٹر کو ترقی اور سوشو ااکنامک ترقی ہر بات ہوگی
انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلی بلوچستان نے تجاوز دی جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے وفاقی حکومت کے ساتھ بلوچستان کو بھی سی پیک کے حوالے سے مذاکرات میں شامل کرینگے انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کو ممکن بنانے گے بلوچستان کے تاجروں سمیت ملاقات مثبت رہی انہوں نے کہاکہ وفاقی سطح پر سی پیک کے تحت پاکستان کو بڑا حصہ ملے گا اور ہماری کوشش ہے کہ سی پیک کو وسطیٰ ایشیاء اور خاص کر افغانستان کی رسائی کیلئے بھی بلوچستان اہم ہے مقامی کیمونٹی جے ساتھ ملکر بلوچستان میں ہنر مراکز قائم کرینگے انہوں نے کہاکہ میڈیا سی پیک کو بڑے موقع کی نظر سے دیکھے اورمیڈیا سی پیک ترقی کیلئے تجاویز دے
انہوں نے کہاکہ نئی حکومت سے متاثر ہے بلوچستان سی پیک کا اہم حصہ ہے بلوچستان میں تمام علاقوں میں ترقی کی ضرورت ہے چین بلوچستان کے طلبا کو سکالرشپ پروگرام جاری رکھے گاچین بلوچستان کے جاری منصوبوں میں آنے والے علاقوں تعلیم اور صحت کی سہولیات دی رہی ہے پاکستان کے 22 ہزار طلبا سکالرشپ پر ہیں ہر سال دو سو سے پانچ سو طلبا کو سکالرشپ دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ چائنا یونیورسٹی بھی نوجوانوں کو اپنے طور ہر سکالرشپ دیتی ہے چین یونیورسٹی میں آن لائن نظام کے تحت داخلے ہوتے ہیں بلوچستان کے نوجوانوں کو حکومتی سطح ہر بھی سہولیات دینگے سی پیک منصوبہ باقاعدہ ایک فریم ورک کے تحت ہواانہوں نے سوال کے جواب میں کہاکہ کوئٹہ میں فی الحال قونصلیٹ قائم کرنے کا ارادہ نہیں ہے اس سلسلے میں تجاویز اپنی حکومت کے سامنے رکھیں گے تاہم کراچی کا سفارتخانہ بلوچستان اور گوادر کے تمام پروجیکٹ اور معاملات کو مانٹیرنگ کررہی ہے ۔



















































