پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فوج کا احتساب بھی ہونا چاہیے، محمود خان اچکزئی نے پارٹی کارکنوں کو افغانستان کی شہریت حاصل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں، دھماکہ خیز اعلانات

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) محمود خان اچکزئی نے پشتون اکائیوں پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم احتساب کے خلاف نہیں مگر جج، جرنیل اور صحافیوں سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے کیوں کہ آئین کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوموں کا معاہدہ ہے، پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ پاکستانی شہریت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی بھی شہریت حاصل کر لیں۔

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں اپنی پارٹی کے شہید کارکنوں کی برسی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لاکھوں پاکستانی دوسرے ملکوں کی دوہری شہریت رکھتے ہیں تو پاکستان کے پشتون افغانستان کے شہری کیوں نہیں بن سکتے۔ ہمارا مطالبہ ہے ملک میں صاف شفاف انتخابات ہوں۔ خود اپنے بارے میں ان کا کہنا تھا میں سیاست کر رہا ہوں، خود سیاست کر رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ خود بھی افغان پاسپورٹ بنوانا چاہتا ہوں لیکن نہیں بنوا سکتا، انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ آپ میں سے جو بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیتے وہ سب افغانستان کا پاسپورٹ بنوائیں۔ سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں بسنے والے پشتون ایک قوم ہیں اور پاکستان بننے سے پہلے بھی وہ اپنی ہی سرزمین پر آباد تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میدان عمل میں ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو غیرجمہوری طریقے سے اقتدار دیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے پشتون اکائیوں پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم احتساب کے خلاف نہیں مگر جج، جرنیل اور صحافیوں سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے کیوں کہ آئین کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوموں کا معاہدہ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…