بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

 اضافی وصول کی گئی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کراؤ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی اسکولوں کے بارے میں بڑا فیصلہ سنادیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کو وصول کی گئی اضافی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے نجی اسکولوں کو اضافی فیسوں کی وصولی کے حوالے سے تمام عدالتوں میں جاری مقدمات کو یکجا کر کے سپریم کورٹ میں لگانے کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ترقی کرنا ہر شخص کا حق ہے۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ تعلیم کا شعبہ ٹیکسٹائل اور اسٹیل ملز سے مختلف ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹیوشن سینٹرز اور ایئر کنڈیشنڈ اسکول تعمیر کر کے والدین کو لوٹا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو والدین فیسیں ادا نہیں کر سکتے ان کے بچوں کو اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگوں نے تعلیم، لیڈرشپ اور جوڈیشل سسٹم کی بنیاد پر ترقی کی، آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسی یونیورسٹیز بھی نجی شعبے میں بنائی گئی تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بھی معیاری اور سستی تعلیم فراہم کرنے والی یونیورسٹیز کی ضرورت ہے، اور تعلیمی ریفارمز کے حوالے سے ہم قوم کو تحفہ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ہر بچے کے لیے یکساں تعلیم اور یونیفارم پالیسی کا تحفہ دینا چاہتے ہیں، اس حوالے سے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے کام مکمل کر لیا ہے۔سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے زائد وصول کی گئی فیسیں جمع کرانے کا حکم دیا اور اس حوالے سے تمام عدالتوں میں جاری مقدمات کو یکجا کر کے سپریم کورٹ میں لگانے کی ہدایت بھی کی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کو وصول کی گئی اضافی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…