جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اعلی سطحی افغان وفد کی مولانا سمیع الحق سے ملاقات، طالبان سے مذاکرات کیلئے مدد طلب کرلی، مولانا سمیع الحق نے مسئلے کا واحد حل تجویز کردیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ خواہش ہے افغان جہاد اپنے منطقی انجام کو پہنچے، امریکہ سمیت بڑی طاقتیں مسئلہ حل نہیں کرنے دیتیں، اپنے کمزور کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈال سکتا،مسئلے کے حل کیلئے چند مخلص علماء اور افغان حکمران ،پاکستان او رامریکہ کی مداخلت سے ہٹ کر خاموشی سے کسی خفیہ مقام پر مل بیٹھیں اور متحارب گروہ ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھیں۔

جاری بیان کے مطابق افغان حکومت کی طرف سے آئے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد نے جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی،یہ ملاقات دو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی ،وفد میں افغانستان میں مختلف جماعتوں کے سرکردہ حکومتی افراد اور اہم علماء شامل تھے، جن میں سے بعض علماء جامعہ حقانیہ سے فارغ اور مولانا سمیع الحق کے تلامذہ بھی تھے ،ملاقات میں پاکستان میں افغان سفارتخانہ کے سفارتکار بھی ملاقات میں شریک تھے، وفد نے مولانا سمیع الحق سے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور مولانا سے قیام امن کے لئے رہنمائی حاصل کرنی چاہی اس ضمن میں وفد نے افغانستان حکومت بشمول شمالی اتحاد اورحکومت کے تمام اتحادی گروپوں کی طرف سے مولانا سمیع الحق کو ثالث بننے کی پیشکش کی اور ان کے ہرفیصلہ کو تسلیم کرنے کا یقین دلایا اور کہاکہ ہم سب افغان طالبان کی طرح آپ کو اپنا استاد ،رہبر اور باپ کی طرح سمجھتے ہیں۔مولانا سمیع الحق نے کہاکہ یہ ایک بین الاقوامی گھمبیر مسئلہ ہے امریکہ سمیت بڑی طاقتیں اسے حل کرنے نہیں دیتیں ،میں اپنے کمزور کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈال سکتا مگر میری دلی خواہش ہے کہ افغان جہاد اپنے منطقی انجام یعنی ملک کی آزادی اور ا سلام کی حکمرانی تک پہنچ جائے اور یہ باہمی خون خرابہ بند ہوجائے،انہوں نے مشورہ دیا کہ پہلے مرحلے میں آپ میں سے چند مخلص علماء ،افغان حکمران ،پاکستان او رامریکہ کی مداخلت سے ہٹ کر خاموشی سے کسی خفیہ مقام پر مل بیٹھیں اور متحارب گروہ ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھ لیں ،

مولاناسمیع الحق نے کہاکہ میرے نزدیک اس مسئلہ کا واحد حل افغانستان کے حکمرانوں ،پچھلے دور کے مجاہدین تمام عوام او رطالبان کا ایک نقطہ پر متفق ہوکر ملک کی آزادی اورامریکی نیٹو افواج کا انخلاء ہونا چاہیے۔ اس طرح قابض استعماری قوتیں نکلنے پر مجبور ہوسکتی ہیں،اس کے بعد تمام افغانیوں کو مل بیٹھ کر ملک کیلئے ایک نظام پر اتفاق کرنا چاہیے اور تمام طبقوں کو افغانستان کی آزادی کے لئے دی گئی لاکھوں افراد کی جانی شہادتوں اور لاکھوں مہاجرین کے دربدر ہونے کی قربانیوں کی لاج رکھنی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…