جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عزت مآب جناب وزیراعظم صاحب میں 25سال کا ہوں، والدین شادی کی بات کرنےپرگالیاں دیتے ہیں،میرے بھی جذبات ہیں۔۔ پشاور بڈھ بیر کے نوجوان نے عمران خان کو کھلا خط لکھ دیااورساتھ ہی ایسا قانون بنانے کا مطالبہ کر دیا کہ نوجوانوں کی خوشی کی انتہا نہیں رہے گی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور کے نوجوان نے وزیراعظم عمران خان سے 25سال کے لڑکوں کی شادی کرانے کا قانون بنانے کا مطالبہ کر دیا، ساتھ ہی شادی نہ کرانے پر والدین کی شکایت بھی لگا دی، وزیراعظم کے نام لکھے گئے کھلے خط کا عکس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر پشاور کے نوجوان کا وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط سوشل میڈیا

پر وائرل ہو گیا ہے جس میں پشاور کے نوجوان نے وزیراعظم عمران خان سے 25سال کے لڑکوں کی شادی کرانے کا قانون بنانے کا مطالبہ کر دیااورساتھ ہی شادی نہ کرانے پر والدین کی شکایت بھی لگا دی ہے۔ نوجوان نے وزیراعظم عمران خان کو خط میں لکھا ہے کہ ’’فرام امین اللہ آف بڈھ بیر‘‘بنام! جناب عمران خان صاحب! میں 25سال کا لڑکا ہوں ، پیسے کماتا ہوں ، والدین کو دیتا ہوں جب اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو مجھے بدتمیز اور بد اخلاق قرار دیا جاتا ہے کہ شادی کی باتیں خود مت کرو میں بھی انسان ہوں میرے بھی جذبات ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے گا جس کے تحت 25سال کے لڑکے کی شادی لازمی قرار دی جائے اور شاید یہ میرا یہ خط کروڑوں نوجوانوں کے دل کی آواز ہو۔ن نوجوان نے وزیراعظم عمران خان کو خط میں لکھا ہے کہ ’’فرام امین اللہ آف بڈھ بیر‘‘بنام! جناب عمران خان صاحب! میں 25سال کا لڑکا ہوں ، پیسے کماتا ہوں ، والدین کو دیتا ہوں جب اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو مجھے بدتمیز اور بد اخلاق قرار دیا جاتا ہے کہ شادی کی باتیں خود مت کرو میں بھی انسان ہوں میرے بھی جذبات ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے گا جس کے تحت 25سال کے لڑکے کی شادی لازمی قرار دی جائے اور شاید یہ میرا یہ خط کروڑوں نوجوانوں کے دل کی آواز ہو۔وجوان کی جانب سے لکھے گئے خط کا عکس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے اور اس پر نہایت دلچسپ تبصرے بھی سامنے آرہے ہیں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس نوجوان کی ہم خیال سامنے آرہے ہیں۔

 

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…