اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پردہ اور شرعی احکامات کی پابندی اور نماز کے دوران نجس قرار دئیے گئے کتوں سے لگائو۔۔ معروف صحافی انصار عباسی کا خاتون اول بشریٰ بی بی سے متعلق ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیںگے

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی انصار عباسی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیراعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے،

کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل

بھی کرتا ہے لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔ (بخاری2322)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…