جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف دور کی 5000 ارب کی کرپشن کی تحقیقات نے نئی پی اے سی کی چیئرمین شپ اور اپوزیشن میں نیا تنازعہ پیدا کردیا،تحریک انصاف ڈٹ گئی

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت اوراپوزیشن کے مابین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی صدارت پر تنازعہ کی بڑی وجہ نواز شریف دور حکومت میں سامنے آنے والی وفاقی اداروں‘ وازارتوں میں 5000 ارب روپے کی کرپشن مالی بدعنوانی اور بے قاعدگیاں ہیں۔ پی اے سی کے سابق چیئرمین سید خورشید شاہ کی صدارت میں چلنے والی پی اے سی نے نواز شریف دور حکومت میں سامنے آنے والی اربوں مالیت کے آڈٹ اعتراضات نمٹا دیئے تھے

تاہم اب بھی پانچ ہزار ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں کے ایک ہزار سے زائد آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ آڈٹ حکام نے آن لائن کو بتایا کہ 2013 ء سے لے کر 2018 ء کے مابین کھربوں روپے کی کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں کی رپرٹ تیار پڑی ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فنکشنل ہوتے ہی اجلاس میں پیس کردی جائیں گی۔ نواز شریف دور حکومت میں سب سے زیادہ کرپشن اور مالی بدعنوانیاں وزارت مواصلات کے ذیلی ادارہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی‘ پی آئی اے‘ وزارت پیٹرولیم‘ او جی ڈی سی ایل‘ ریلوے ‘ وزارت کامرس اور کابینہ ڈویژن شامل ہیں۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزارت خارجہ میں اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ بھی نئی پی اے سی لے گی ذرائع نے بتایا ہے کہ نئی تشکیل پانے والی (پی اے سی) نے ایل این جی کرپشن سکینڈل میں مبینہ 2000 ارب کی مالی بدعنوانی ۔ سی پی ک منصوبوں میں مالی بے قاعدگیاں ‘ پاور منصوبوں میں بے قاعدگی‘ بجلی شعبہ میں اربوں کی کرپشن ‘ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اربوں روپے کی کرپشن‘ ملک میں بجلی اور تیکس چوری بارے آڈت اعتراضات ملک کی پچاس سے زائد خود مختار اداروں میں کرپشن بارے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ بھی آنے والی (پی اے سی) نے لینا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پانچ ہزار سے زائد کی مالی بدعنوانیاں نواز شریف دور حکومت میں سامنے آئی تھیں اور اسی بدعنوانیوں کی مفصل رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے

تاہم 2017 ء اور 2018 ء کی آڈٹ رپورٹ ابھی تک پیش نہیں ہوئی حالانکہ یہ رپورٹ صدر مملکت کو پیش کردی گئی تھیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہیں جو پی اے سی کے چیئرمین شپ حاصل کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جبکہ حکومت نواز شریف کی پانچ ہزار روپے کی کرپشن کی تحقیقات کی ذمہ داری شہباز شریف کو نہیں دینا چاہتی اور موقف اختیار کررہی ہے کہ نواز شریف کی کرپشن کا جائزہ لینے کا ٹاسک شہباز شریف کو سونپنا بلی کو دودھ کی رکھوالی کے مترادف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…