جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

نواز شریف کا اہلیہ سے انتقال سے قبل ٹیلی فونک رابطہ،کیا بیگم کلثوم نواز کو پتہ چل گیا تھا کہ نواز شریف جیل میں ہیں، اس رات نواز شریف کیوں سو نہ سکے،کیا انکی چھٹی حِس نے انہیں خبردار کر دیا تھا؟ حامد میر اور نواز شریف میں کیا گفتگو ہوئی؟جانئے

datetime 17  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کا وفات سے ایک دن قبل اہلیہ کلثوم نواز سے فون پر رابطہ، نواز شریف رات بھر سونہ سکے، کیا انہیں کچھ ہونے کا احساس پہلے ہی ہو گیا تھا، حامد کیساتھ ملاقات میں کیا انکشاف کر دیا؟ تفصیلات کے مطابق ملک کے معروف صحافی حامد میر اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کے جنازے سے اگلے روز مجھے جاتی امرامیں نواز شریف

سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ا ور فاتحہ خوانی کا موقع ملا۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ میں نے فاتحہ خوانی کے بعد ان کی طبیعت کے متعلق پوچھا تو نواز شریف نے بتایا کہ وفات سے ایک دن قبل کلثوم سے فون پر بات ہوئی تھی۔ اس رات میں سو نہ سکا۔ اگلے دن پتہ چلا کہ ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ پھر ان کی وفات کی خبر آگئی اور وہ رات بھی نہ سوسکا۔ نواز شریف نے بتایا کہ تقریباً اڑتالیس گھنٹے کی بے خوابی کے باعث اور پھر اہلیہ کے انتقال کی خبر سے طبیعت بوجھل ہوگئی لیکن اب وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واقعی انہیں صبر اور حوصلہ عطا کردیا تھا۔ کلثوم کے بائوجی ہمارے ساتھ اپنی اہلیہ کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ اتنی خوبصورت باتیں وہی کرسکتا ہے جس کا حوصلہ قائم ہو۔ نواز شریف کہہ رہے تھے کہ نجانے یہ کیا راز ہے کہ کلثوم موت کے منہ سے واپس آئیں، انہوں نے آنکھیں کھول دیں، بات چیت شروع کردی، کھانا پینا بھی شروع کردیا اور پھر اچانک ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ ہم ان کے جنازے کی باتیں کررہے تھے۔ ایک بزرگ (احمد بن حنبل) کے اس قول پر گفتگو ہوتی رہی کہ لوگوں کے کردار و عمل کا اندازہ ان کے جنازوں سے لگایا جاسکتا ہے۔حامد میر مزید لکھتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کے جنازے سے اگلے روز مجھے جاتی امرامیں نواز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ا ور فاتحہ خوانی کا موقع ملا۔

اس رہائش گاہ میں پہلے بھی ان کے ساتھ کئی مرتبہ ملاقات ہوچکی ہے لیکن پہلے یہاں قہقہے، مسکراہٹیں اور رنگ و خوشبو تھی آج ماحول سوگوار تھا۔ ڈرائنگ روم میں نواز شریف کیساتھ خواجہ محمد آصف، پرویز رشید، عرفان صدیقی اور کچھ قریبی رشتہ دار موجود تھے۔ نواز شریف کی آنکھوں میں غم اور اداسی کے سائے نظر آرہے تھے لیکن انکے چہرے پر حوصلہ اور لہجہ پرعزم تھا۔حامد میر کا اپنے کالم میں کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو کھونا تھا کھودیا۔ مزید کھونے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔ حکومت نے نواز شریف کو پیرول پر رہا کرکے بہت اچھا کیا لیکن نواز شریف کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ بائو جی بڑے حوصلے میں ہیں۔ کسی ڈیل کے لئے تیار نہیں اور بائو جی کا چھوٹا بھائی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…