جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سی پیک ایک سال کیلئے بند،معاہدوں پر ازسر نو غور؟ نئی حکومت کیا بڑا سرپرائزدینے والی ہے؟بڑی خبر آگئی

datetime 10  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)روزنامہ جنگ اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرثانی پر غور کررہی ہے؟ اخبار کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار فناشنل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان میں معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے،منصوبوں

اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن زیر غور ہیں۔مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کہتے ہیں کہ فی الحال تمام سی پیک منصوبوں پر ایک سال کے لیے عمل روک دینا چاہیے، ایسے معاہدے از سر نو کیے جائیں گے جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے، پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے عہدے دار مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار کو سست کرنا سابق نواز حکومت کی پالیسی کے برعکس بڑی تبدیلی ہوگی۔معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزراء اور مشیروں کا کہنا ہے کہ حکومت سی پیک کے تحت سرمایہ کاری پر نظر ثانی کرے گی اور تجارتی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے کیونکہ اس کے تحت چینی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔برطانوی اخبار کو انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا، چینی کمپنیوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔اخبار کے مطابق پاکستان کے دورے میں چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے بھی سی پیک معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے۔عبدالرزاق داؤد نے خیال ظاہر کیا کہ اپنے

امور منظم کرنے تک ان معاہدوں پر فی الحال ایک سال کےلیے عمل روک دینا چاہیے، سی پیک کی مدت کو مزید پانچ سال کے لیے بڑھایا بھی جاسکتا ہے، ان کی اس تجویز سے دیگر وزراء اور مشیر بھی متفق ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا معاہدے منسوخ کرنے سے بہتر آپشن ہوگا، تاہم حکومت محتاط ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے عمل میں

اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چینی حکومت ناراض نہ ہو۔برطانوی اخبار کے مطابق وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائیشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا، ملائیشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردیے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے عہدے دار مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار سست کرنا سابق حکومت کی پالیسیوں سے بڑی تبدیلی ہوگی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…