پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

تمہیں حکومت کی ذمہ داری تب ملے گی جب۔۔پے درپے ناکامیوں کے بعد عمران خان جب ایک روحانی شخصیت کے پاس گئے تو جانتے ہیں اس روحانی شخصیت نے کپتان کو کب وزیراعظم بننے کا کہا تھا؟حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ ایک روحانی شخصیت نے عمران خان کو اقتدار میں آنے کا وقت 2002کے الیکشن کے بعد بتا دیا تھا۔حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں ’’تمہیں ذمہ داری اس وقت ملے گی جب تم اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائو گے۔‘‘یہ الفاظ میاں بشیر صاحب کے تھے جو انہوں نے 2002ء کے

انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کے کچھ عرصہ بعد عمران خان کو کہے تھے ۔ان انتخابات میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پاکستان میں نہیں تھے لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف صرف ایک نشست حاصل کر سکی تھی جس پر عمران خان میانوالی سے کامیاب ہوئے تھے ۔انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے کئی اہم امیدوار عمران خان کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں چلے گئے تھے کیونکہ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف انکی پارٹی کے خلاف ہے ۔انتخابات میں ناکامی کے بعد تحریک انصاف کے بعض رہنما مایوسی کا شکار ہو کر سیاست چھوڑ گئے تھے ۔انتخابی مہم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے عمران خان نے کچھ قرضے بھی لئے تھے جس کی وجہ سے تحریک انصاف شدید مالی بحران کا شکار تھی ۔عمران خان سخت پریشان تھے اور اسی پریشانی کے عالم میں ایک دن وہ اپنے پرانے دوست گولڈی(عمرفاروق) کے ساتھ میاں بشیر کے پاس پہنچے ۔میاں بشیر صاحب سے عمران خان دین کے ساتھ ساتھ دنیا کے معاملات میں بھی رہنمائی لیا کرتے تھے ۔گولڈی نے مایوسی اور شکست خوردہ لہجے میں میاں بشیر صاحب سے پوچھا کہ ہماری پارٹی کب اقتدار میں آئے گی ؟میاں بشیر صاحب نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔کچھ دیر بعد انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور عمران خان سے کہا کہ تمہیں حکومت کی ذمہ داری اس وقت ملے گی جب تم اس ذمہ داری

کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائو گے ۔یہ الفاظ سن کر اچانک عمران خان کو اپنے اندر سے آواز آئی کہ وہ تو حکومت کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں۔ایک صوفی نے عمران خان پر یہ رازفاش کر دیا تھا کہ انہیں اس وقت تک حکومت نہیں ملے گی جب تک وہ اس کے قابل نہیں بنیں گے۔یہ وہ زمانہ تھا جب جمائما خان نے بھی عمران خان کو کہنا شروع کر دیا کہ وہ سیاست کے

بجائے شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل پر زیادہ توجہ دے لیکن میاں بشیر صاحب نے جمائما کو یہ سمجھایا کہ اگر عمران خان جیسے لوگ سیاست میں نہیں آئیں گے تو پھر پاکستان میں تبدیلی کیسے آئے گی ؟شوکت خانم ہاسپیٹل کے بورڈ کے ارکان رزاق دائود اور ڈاکٹر پرویز حسن نے بھی عمران خان سے کہا کہ سیاست چھوڑ دو ورنہ ہاسپیٹل کیلئے فنڈز کا حصول مشکل ہو جائے گا لیکن عمران خان کو

یقین تھا کہ جس دن وہ حکومت کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے انہیں یہ ذمہ داری ضرور ملے گی ۔اکتوبر 2011ء وہ سال تھا جب عمران خان نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ حکومت کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو چکے ہیں ۔2011ءتحریک انصاف کی اٹھان کا سال تھا اور اگلے سات سال میں بہت سے ایسے سیاست دان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے جو عمران خان کو ایک پاگل کپتان کہا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…