جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نواز شریف پمز ہسپتال کس ڈیل کے تحت آئے اور پھر واپس جیل جانے کی ضد کیوں کی؟وزیراعظم بنتے ہی عمران خان کیساتھ کیا کام شروع ہو جائیگا سینئر صحافی عارف نظامی اندر کی کہانی سامنے لے آئے ، کپتان کو بھی خبردار کر دیا

datetime 1  اگست‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کی جیل سے پمز ہسپتال منتقلی اور این آر او کی خبریں بنائی گئیں، این آر او ڈیل کی خبروں پر نواز شریف نے جلدبازی کی اور ہسپتال سے دوبارہ جیل چلے گئے،نواز شریف ہسپتال میںمسلسل بضد رہے کہ ان کا بنیادی علاج ہو چکا ہے اب ان کو واپس جیل منتقل کیا جائے،نواز شریف قربانی دے چکے اب اصل امتحان شہباز شریف کا ہے،

آج تک شاید ہی کوئی منتخب وزیراعظم ہو جس کے اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں ، معروف صحافی عارف نظامی نواز شریف کی جیل سے ہسپتال اور پھر دوبارہ جیل منتقلی سے متعلق اصل کہانی سامنے لے آئے ساتھ ہی کپتان کو بھی خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ روز جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقلی کی خبر میڈیا پر آتے ہی ایک بار پھر این آر او اور ڈیل کی خبریں گردش کرنے لگ گئی تھیں جبکہ میڈیا پر نواز شریف کی علاج کے سلسلے میں بیرون ملک روانگی سے متعلق بھی خبریں سامنے آئیں ۔ نواز شریف کو خرابی صحت پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔ نواز شریف کو گزشتہ روز بنیادی علاج معالجے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیا جا چکا ہے۔ نواز شریف کی اڈیالہ جیل اور ہسپتال منتقلی اور ڈیل کے حوالے سے معروف صحافی عارف نظامی اندر کی کہانی سامنے لے آئے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف اور مقتدر حلقوں کے درمیان اس حوالے سے کوئی ڈیل یا گفتگو شنید کسی بھی چینل پر نہیں ہوئی ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے بعد ڈیل کی خبریں بنائی گئی تھیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ این آر او ڈیل کی خبروں پر نواز شریف نے جلدبازی کی اور

ہسپتال سے دوبارہ جیل چلے گئے،نواز شریف ہسپتال میںمسلسل بضد رہے کہ ان کا بنیادی علاج ہو چکا ہے اب ان کو واپس جیل منتقل کیا جائے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو کرنا تھا کر دیا انہوں نے قربانی دیدی ہے اور اب اصل امتحان شہباز شریف کا ہے کہ وہ پارٹی کو کیسے لے کر چلتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا لیڈر مزاحمت سے بنتا ہے اور مریم نواز کا سیاسی کیرئیر ان کی مزاحمت سے مشروط ہے مگر دوسری طرف مسلم لیگ ن کے خمیر میں مزاحمت نہیں ۔ عارف نظامی نے اس موقع پر نام لئے بغیر عمران خان کو بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک شاید ہی کوئی منتخب وزیراعظم ہو جس کے اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہوں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…