منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف پمز ہسپتال کس ڈیل کے تحت آئے اور پھر واپس جیل جانے کی ضد کیوں کی؟وزیراعظم بنتے ہی عمران خان کیساتھ کیا کام شروع ہو جائیگا سینئر صحافی عارف نظامی اندر کی کہانی سامنے لے آئے ، کپتان کو بھی خبردار کر دیا

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کی جیل سے پمز ہسپتال منتقلی اور این آر او کی خبریں بنائی گئیں، این آر او ڈیل کی خبروں پر نواز شریف نے جلدبازی کی اور ہسپتال سے دوبارہ جیل چلے گئے،نواز شریف ہسپتال میںمسلسل بضد رہے کہ ان کا بنیادی علاج ہو چکا ہے اب ان کو واپس جیل منتقل کیا جائے،نواز شریف قربانی دے چکے اب اصل امتحان شہباز شریف کا ہے،

آج تک شاید ہی کوئی منتخب وزیراعظم ہو جس کے اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں ، معروف صحافی عارف نظامی نواز شریف کی جیل سے ہسپتال اور پھر دوبارہ جیل منتقلی سے متعلق اصل کہانی سامنے لے آئے ساتھ ہی کپتان کو بھی خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ روز جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقلی کی خبر میڈیا پر آتے ہی ایک بار پھر این آر او اور ڈیل کی خبریں گردش کرنے لگ گئی تھیں جبکہ میڈیا پر نواز شریف کی علاج کے سلسلے میں بیرون ملک روانگی سے متعلق بھی خبریں سامنے آئیں ۔ نواز شریف کو خرابی صحت پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔ نواز شریف کو گزشتہ روز بنیادی علاج معالجے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیا جا چکا ہے۔ نواز شریف کی اڈیالہ جیل اور ہسپتال منتقلی اور ڈیل کے حوالے سے معروف صحافی عارف نظامی اندر کی کہانی سامنے لے آئے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف اور مقتدر حلقوں کے درمیان اس حوالے سے کوئی ڈیل یا گفتگو شنید کسی بھی چینل پر نہیں ہوئی ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے بعد ڈیل کی خبریں بنائی گئی تھیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ این آر او ڈیل کی خبروں پر نواز شریف نے جلدبازی کی اور

ہسپتال سے دوبارہ جیل چلے گئے،نواز شریف ہسپتال میںمسلسل بضد رہے کہ ان کا بنیادی علاج ہو چکا ہے اب ان کو واپس جیل منتقل کیا جائے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو کرنا تھا کر دیا انہوں نے قربانی دیدی ہے اور اب اصل امتحان شہباز شریف کا ہے کہ وہ پارٹی کو کیسے لے کر چلتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا لیڈر مزاحمت سے بنتا ہے اور مریم نواز کا سیاسی کیرئیر ان کی مزاحمت سے مشروط ہے مگر دوسری طرف مسلم لیگ ن کے خمیر میں مزاحمت نہیں ۔ عارف نظامی نے اس موقع پر نام لئے بغیر عمران خان کو بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک شاید ہی کوئی منتخب وزیراعظم ہو جس کے اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…