ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

مرکز میں تحریک انصاف کو 168ارکان قومی اسمبلی کی حمایت مل گئی،،پنجاب میں 149ارکان کی حمایت حاصل ،(ق) لیگ سے اتحاد کا فارمولا طے پا گیا ، پنجاب کا وزیراعلیٰ کس جماعت کا ہوگا؟ تحریک انصاف نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 30  جولائی  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکز میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کیلئے 168ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہو گئی ہے جبکہ پنجاب میں 149ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے،(ق) لیگ سے اتحاد کا فارمولا طے پا گیا ہے، پنجاب کا وزیراعلیٰ (ق) لیگ نہیں تحریک انصاف کا ہو گا، ایم کیو ایم مرکز میں تحریک انصاف کا ساتھ دے گی۔ پیر کو بنی گالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے ہماری تعداد پوری ہے، ہم نے یہ تعداد آج پوری کرلی ہے، جہانگیر ترین ایم کیو ایم پاکستان سے مذاکرات کریں گے، آزاد ارکان کی شمولیت (ق) لیگ، بی اے پی بلوچستان ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے کے ارکان کی حمایت ملنے کے بعد خواتین اور اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستوں کا حساب کتاب لگانے کے بعد مجموعی طور پر اب تک تحریک انصاف کو قائد ایوان وزیراعظم کے انتخاب کیلئے 168 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے جبکہ پنجاب میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد ارکان کی تعداد 180 تک پہنچ جائے گی اور تحریک انصاف آسانی سے اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرا لے گی، وزیراعلیٰ پنجاب کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت بنے گی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کسی اتحادی جماعت کا نہیں بلکہ تحریک انصاف کا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہے، وفاق میں ہمارے ساتھ اقلیتیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے انتخابی اخراجات کی فہرست جلد از جلد جمع کرائیں، ہم بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں،

قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہو گا، اس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہو گا، اتحادیوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، اجلاس بلانے میں ابھی 21دن باقی ہیں، ہماری وفاق اور صوبے میں اکثریت کو کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ صدر مملکت نے کرنا ہے، حکومت سازی سے متعلق تمام فیصلے عمران خان کریں گے۔)



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…