منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں شاہانہ پروٹوکول میں گھومنے والوں کیساتھ بیرون ملک کیا کچھ ہوتا ہے شہباز شریف کا لندن میں ٹیکسی پر سفر، ٹیکسی ڈرائیور سے بقایاطلب کرنے پر ڈرائیور نے آگے سے کیا کام کیا،شہباز شریف نےسکہ کیسے واپس لیا؟

datetime 23  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شہباز شریف کی لندن میں اکیلے بھاگ کر سڑک کراس کرنے کی ویڈیو میڈیا پر آنے کے بعد ان کے پاکستان میں مخالفین نے ان کا خوب مذاق اڑایا کہ یہاں پاکستان میں کیسےشاہانہ پروٹوکول میں گھومتے پھرتے ہیں اور دیکھیں باہر ان لوگوں کی کیا عزت ہے،یہی بات گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں احسن اقبال کے ججز مخالف تقریر کے کیس کے موقع پر جسٹس مظاہر

نے بھی عدالت میں موجود سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو مکالمہ کے دوران کہی کہ یہاں آپ لوگوں کی عزت ہے دیکھ لیں شہباز شریف کیسے باہر بھاگتے پھر رہے تھے۔ مگر اب شہباز شریف کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے ’’Keep the change‘‘کے بجائے ’’بقایا واپس کرو‘‘کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی روایتی کفایت شعاری کی عادت کے تحت ٹیکسی ڈرائیور سے بقایا وصول کیا جو کہ چند برطانوی سکوں پر مشتمل تھا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جب اہل خانہ کے ہمراہ لندن ہارلے سٹرک میں واقع ہسپتال میں کلثوم نواز کی عیادت کیلئے ٹیکسی پر پہنچے تو اس موقع پر وہاں کئی افراد موجود تھے جو شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کی وہاں پہنچنے پر موبائل کیمروں سے ویڈیو بنا رہے تھے۔ شہباز شریف کی پہلی اہلیہ نصرت شہباز اور دیگر خواتین جب ٹیکسی سے اتر کر ہسپتال میں داخل ہوئیں تو اس دوران شہباز شریف نے ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ ادا کیا اور پھر تھوڑی دیر بعد اس سے بقایا طلب کیا۔ ٹیکسی ڈرائیور جو شاید ’’Keep the change‘‘کا عادی معلوم ہوتا تھا پہلے تو گڑبڑا گیا پھر فوراََ ہی اس نے اپنے بٹوے میں موجود سکے نکال کر شہباز شریف کو بقایا رقم ادا کی۔ شہباز شریف کا تعلق پاکستان کے امیر ترین شریف خاندان میں ہوتا ہے جس کا دنیا بھر میں کاروبار اور لندن میں جائیدادیں ہیں مگر شہباز شریف کی لندن کی سڑکوں پر پیدل بھاگتے دوڑتے اور ٹیکسی پر سفر کی ویڈیوز کو لیکر جہاں کئی لوگ ان کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں تو وہیں کئی لوگ ان کی کفایت شعاری اور ایک عام آدمی کی طرح برتائو کو تحسین کی نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…