ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کوئی بھی پاکستانی آرٹیکل 62 اور63 پر پورا نہیں اترتا، محمود خان اچکزئی

datetime 8  جون‬‮  2018 |

کوئٹہ(آئی این پی ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا، پاکستان ایک جمہوری اور آئینی وفاق بننا چاہیے، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہئیے،ملکی داخلہ اورخارجہ پالیسی پارلیمینٹ سے بنی چا ہیے،الیکشن کمیشن کے طے شدہ فارمولے کے تحت حلقہ بندیاں کی جائیں۔کوئٹہ

میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حلقہ بندیاں برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھی لیکن بلوچستان کے بعض حلقوں میں پشتونوں کی واضح اکثریت کم دکھائی گئی ہے، کوئٹہ کی صوبائی حلقہ بندیاں بھی غیرمنصفانہ کی گئی ہیں، موسی خیل اور شیرانی کی حلقہ بندیوں کے خلاف ہماری پارٹی اسلام آباد ہائی کورٹ گئی لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات نہیں مانے، ہمارے خلاف ایسا جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے طے شدہ فارمولے کے تحت حلقہ بندیاں کی جائیں، ہائی کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا لیکن الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد نہیں کیا، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پرالیکشن کمیشن کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔گزشتہ ادوار میں بھی پشتون علاقوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، اگریہ ہی طرز عمل رہا تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس صوبے میں رہنا ہے یا نہیں۔سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری اور آئینی وفاق بننا چاہیے، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہئیے ۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…