جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ہندو میرج ایکٹ 2018 منظور: ہندو بیوہ خاتون کو دوسری شادی کا حق دیدیا گیا، پہلے خاوند کے انتقال کے کتنے عرصے بعد دوسری شادی کی قانون اجازت ہو گی؟

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہندو میرج ایکٹ 2018 منظور: ہندو بیوہ خاتون کو دوسری شادی کا حق مل گیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی نے ہندو میرج ایکٹ 2018 منظور کرلیا جس کے تحت اب ہندو بیوہ خاتون کو شوہر کی وفات کے 6 ماہ کے بعد دوسری شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ہندو میرج ترمیمی ایکٹ 2018 موجودہ سندھ اسمبلی سے پاس ہونے والا آخری بل ہے۔بل کے متن کے مطابق

ہندو مذہب کی بیوہ خواتین کو پہلے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کرنے کا حق نہ تھا، لیکن ہندو میریج ایکٹ 2018 کے تحت اب بیوہ عورت کو دوسری شادی کا اختیار دیا گیا ہے۔ہندو برادری کی عورت اس بل کے تحت اگر اپنے شوہر سے خوش نہیں یا اگر وہ اس کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا تو خاتون اپنی مرضی سے اپنے شوہر سے علیحدگی بھی لے سکتی ہے ۔اس کے علاوہ عورت اور مرد اگر چاہیں تو رضا مندی سے بھی علیحدہ ہوسکتے ہیں ۔ہندو میرج ایکٹ میں شوہر اور بیوی برابری کی بنیاد پر علیحدگی لے سکتے ہیں جب کہ اگر ہندو مرد اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کرے گا تو اسے 6 ماہ کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔مرد اور عورت اگر ایک دوسرے سے خوش نہیں اورساتھ نہیں رہنا چاہتے تو علیحدگی کی صورت میں کہ ہندو مرد کو اپنے بچوں کا نان نفقہ ادا کرنا ہوگا ۔بل کے تحت شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی کی کم ازکم عمر 18 سال ہونی چاہیے ۔اس بل کا اطلاق منظوری کے بعد آج سے پورے صوبے میں نافذ کردیا گيا ہے ۔بل کے تحت اگر اپنے شوہر سے خوش نہیں یا اگر وہ اس کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا تو خاتون اپنی مرضی سے اپنے شوہر سے علیحدگی بھی لے سکتی ہے ۔اس کے علاوہ عورت اور مرد اگر چاہیں تو رضا مندی سے بھی علیحدہ ہوسکتے ہیں ۔ہندو میرج ایکٹ میں شوہر اور بیوی برابری کی بنیاد پر علیحدگی لے سکتے ہیں جب کہ اگر ہندو مرد اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کرے گا تو اسے 6 ماہ کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…