پاکستان پیپلزپارٹی کاپنجاب میں کوئی نام لینے والا تک نہیں رہا، سینئر ترین رہنما منظور وٹو اور مخدوم احمد محمود نے بھی زرداری کو الوداع کہہ دیا کس پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑینگے، پی ٹی آئی نے باہیں پھیلا دیں

22  مئی‬‮  2018

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب میں اس وقت پی پی پی شریک چیئرمین آصف زرداری قابل قبول نہیں ہیں، پیپلز پارٹی اب سکڑ کر اندرون سندھ کی پارٹی بن گئی، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر ترین رہنما منظور وٹو اور مخدوم احمد محمود پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے، شاہ محمود قریشی کے دعوے نے ہلچل مچا دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)

کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر ترین رہنما منظور وٹو اور مخدوم احمد محمود پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے۔جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اس وقت پی پی پی شریک چیئرمین آصف زرداری قابل قبول نہیں ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پھر پنجاب میں کسی حد تک قبول ہیں لیکن آصف زرداری نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب سکڑ کر اندرون سندھ کی پارٹی بن گئی۔نگراں وزیراعظم کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عہدے کے لیے ایسی شخصیت ہو جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی بصیرت ہو تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو نگراں وزیراعظم کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات کی حد محدود کردی گئی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ذکا اشرف بہت اچھے آدمی ہیں لیکن وہ پیپلزپارٹی سے اتنے منسلک ہیں کہ اعتراض آجائے گا۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف کو اپنی کارکردگی پر اطمینان ہے، یو این ڈی پی کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ 2005 سے 2015 تک کی ہے جس میں ایم ایم اے اور اے این پی حکومت میں رہی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج بھی دس، دس گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ، ن لیگ کی حکومت لائن لاسز دور کرنے میں ناکام رہی۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…