جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سبیکا شیخ کی موت انتہائی افسوس ناک ہے، سبیکا کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں،عائشہ فاروقی

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

ہوسٹن (آئی این پی)ہوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ سبیکا شیخ کی موت انتہائی افسوس ناک ہے، سبیکا کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں،سبیکا گزشتہ سال اگست میں امریکا آئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ سبیکا کے والدین کی خواہش ہے کہ میت جلد پاکستان پہنچائی جائے، پاکستانی قونصل خانہ، میڈیکل سینٹر اور انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

عائشہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایک سے دو روز میں کارروائی مکمل کرکے میت روانہ کردی جائے، تاخیر کی وجہ ہوسٹن سے پاکستان براہ راست فلائٹ نہ ہونا بھی ہے، تاہم میت کی براہ راست پاکستان روانگی کیلئے ایئرلائن سے بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میت پاکستان بھجوانے سے متعلق حکمت عملی بنا لی ہے، کل تک اہم پیش رفت سے آگاہ کریں گے، ہفتہ وار تعطیل کے بعد ایک سے دو روز لگیں گے، پیر کو میت پاکستان بھجوانے کا انتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔دوسری جانب دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تفصیلات کا انتظار ہے، ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ اس حوالے سے الرٹ ہے۔ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے سانتا فے فائرنگ واقعہ پر افسوس کا ااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سبیکا کے لواحقین اور دوستوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ہماری دعائیں ٹیکساس واقعہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…