ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے بھارتی خواب مٹی میں ملا دئیے، ایسا کام ہو گیا کہ بھارت سوچ بھی نہیں سکتا تھا، سی پیک کو متاثر کرنے کیلئے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار بننے سے پہلے ہی ہاتھ سےپھسل گئی۔۔مودی سرکارنے سر پیٹ لیا

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کا چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے کا امکان، امریکی پابندیوں سے ایران میں چاہ بہار منصوبہ رک سکتا ہے، بھارت کا وسطیٰ ایشیا کی تجارتی منڈیوں تک رسائی کا خواب اب حقیقت میں بدلتا نظر نہیں آرہا،بھارتی میڈیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کا چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد ایران پرپابندیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پابندیوں سے ایران میں چاہ بہار منصوبہ رک سکتا ہے۔ بھارت کا وسطی ایشیا کی تجارتی منڈیوں تک رسائی کا خواب اب حقیقت میں بدلتا نظر نہیں آرہا۔ امریکہ اور ایران میں کشیدگی کی زد میں بھارت کی چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بھی آگیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث ایران میں چاہ بہار منصوبہ رک سکتا ہے۔ نئی دہلی نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم بندرگاہ پر 500ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ صورتحال پر بھارت زیادہ پریشان نہیں لیکن نئی دہلی اس منصوبے پر امریکی پابندیاں واضح ہونے کا انتظار کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایران سے 2015کے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایران پھر سے پابندیوں کی زد میں آجائے گا۔ امریکہ اور ایران میں کشیدگی کی زد میں بھارت کی چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بھی آگیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث ایران میں چاہ بہار منصوبہ رک سکتا ہے۔ نئی دہلی نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم بندرگاہ پر 500ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ صورتحال پر بھارت زیادہ پریشان نہیں لیکن نئی دہلی اس منصوبے پر امریکی پابندیاں واضح ہونے کا انتظار کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایران سے 2015کے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایران پھر سے پابندیوں کی زد میں آجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…