جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزامات مسترد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کی گرے لسٹ میں شمولیت روکنے کیلئے حکومت میدان میں آگئی، بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کیلئے کبھی استعمال نہیں ہونے دیگا ٗفنانشنل ایکشن ٹاسک فورس اور انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو گروپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں پیش کئے جانے والے خدشات درست نہیں ٗگرے لسٹ میں اپنی شمولیت کو روکنے کے لئے اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔

غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویومیں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کر رہا ہے تاہم حکومت اس حوالے سے مزید موثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نہیں ہونے دے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس اور انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو گروپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں پیش کئے جانے والے خدشات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور گرے لسٹ میں اپنی شمولیت کو روکنے کے لئے اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اشاریئے مثبت ہیں جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال مارچ کے دوران پاکستانی برآمدات میں 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپے میں کمی اس لئے کی گئی تھی کہ گزشتہ تین سال کے دوران درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھا جس کی روشنی میں روپے کی قدر کم کی گئی۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اب قومی برآمدات بڑھ رہی ہیں اور ملک میں افراط زر کی شرح بھی کنٹرول میں ہے جو اس وقت 4 فیصد سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت روپے کی قدر میں مزید کمی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کمرشل بینکوں سے قرض لے گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران قومی معیشت کی شرح ترقی 6.25 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

جبکہ جاری مالی سال کے دوران شرح نمو 5.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران اقتصادی شرح ترقی 5.4 فیصد رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ملک میں قائم کئے جانے والے نئے پاور پلانٹس سے توانائی کی طلب کو پورا کیا جا سکے گا اور توانائی کی قلت کے مسئلے پر قابو پا کر ہم اقتصادی شرح نمو کو 6.2 فیصد تک بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…