بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

کون ہے ان معصوم بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار؟ تھر میں قیامت برپا،کئی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

مٹھی(سی پی پی) غذائی قلت اور وائرل انفیکشن کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں میں تھر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مزید 10 بچے مٹھی کے سول ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ رواں سال بچوں کی اموات کی تعداد 190 تک پہنچ گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق مٹھی کے سول ہسپتال میں بہتر علاج معالجے کے لیے گاں سے آنے والے مزید 10 بچے جاں بحق ہوئے، جس کے بعد رواں سال بچوں کی اموات کی تعداد 190 تک پہنچ گئی۔

انفیکشن اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہونے والوں میں ایک سال کا نشاد، 2 سالہ خالدہ، 3 ماہ کا انتظار علی، 4 ماہ کی ماروی، 5 ماہ کی عابدہ، 8 برس کی ماروی، 6 ماہ کی خاتون نامی بچی، 8 ماہ کی عائشہ، 3 ماہ کی دھانا اور 7 ماہ کی شانتی شامل ہیں۔دوسری جانب جاں بحق اور بیمار بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں صحت سمیت بنیادی سہولیات موجود نہیں ہے جبکہ ادویات کا بھی فقدان ہے، جس کے باعث انہیں شدید گرمی میں بچوں کے علاج کے لیے کئی کلو میٹر سفر کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی طبیعت مزید خراب ہوجاتی ہے اور وہ دوران علاج جاں بحق ہوجاتے ہیں۔اس بارے میں ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ڈویلپمنٹ سوسائٹی (ہینڈز)کے ڈاکٹر شیخ تنویر احمد سمیت صحت اور غذائیت کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تھر میں اس طرح کی اموات کا نوٹس لیں اور وہاں صحت کی سہولیات پہنچانے میں کردار ادا کریں۔تھر میں غذائی قلت کے باعث متعدد اموات اور اس ہنگامی صورتحال پر جب محکمہ صحت کے مقامی حکام سے رابطہ کیا گیا تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی تھر میں متعدد بچے صحت کی ناقص صورتحال اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تھر کے 2 لاکھ

87 ہزار غریب خاندانوں میں مفت گندم تقسیم کی منظوری دی گئی تھی اور چیف سیکریٹری کو گندم کی تقسیم کا عمل فوری طور پر بحال کرنے اور اپریل کے آخر تک اسے مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔تاہم ان سب احکامات کے باوجود تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ماہ بھی خسرہ کی وبا پھوٹنے اور غذائی قلت کے نتیجے میں مزید 5 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے ازخود نوٹس بھی لیا گیا تھا اور سیکریٹری صحت کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا جبکہ تھر میں بچوں کی اموات کے معاملے پر غیر جانبدار ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا بھی کہا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…