ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

راؤ انوار کی سپریم کورٹ سے گرفتاری نے وفاقی دارالحکومت کے تھانوں کی سکیورٹی کا پول کھول دیا ،وفاقی پولیس سابق ایس ایس پی کی گرفتاری کے بعد خوف و ہراس کا شکار ہوگئی

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نقیب اللہ محسود کیس میں روپوش ہونے والے ایس ایس پی راؤ انوار کی سپریم کورٹ سے گرفتاری نے دارالحکومت کے تھانوں کی سیکیورٹی کا پول کھول دیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملزم کو تھانے میں رکھنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد معاملے کو سلجھانے کیلئے ڈی آئی جی آپریشن وقار چوہان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے

اور اعلیٰ حکام کے نوٹس اور مشاورت کے بعد تھانہ سیکرٹریٹ میں مبینہ ملزم کی موجودگی کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے غیر قانونی طور پر ایس ایس پی سیکیورٹی کے ڈپلومیٹک ایریا میں آفس منتقل کردیا پولیس کے ذمہ دار افسر نے آن لائن کو بتایا کہ کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے بعد یا تو تھانے کے حوالات میں رکھا جاتا ہے یا پھر جیل منتقل کردیا جاتا ہے وفاقی پولیس سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد خوف و ہراس کا شکار ہوگی اور ریڈ زون میں پولیس اسٹیشن کو غیر محفوظ تصور کرنے لگی بعد ازاں سندھ پولیس کو اطلاع دی گئی اور آمد و روانگی کے مراحل طے کرنے کے بعد ملزم کو سندھ پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ نقیب اللہ محسود کیس میں روپوش ہونے والے ایس ایس پی راؤ انوار کی سپریم کورٹ سے گرفتاری نے دارالحکومت کے تھانوں کی سیکیورٹی کا پول کھول دیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملزم کو تھانے میں رکھنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد معاملے کو سلجھانے کیلئے ڈی آئی جی آپریشن وقار چوہان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور اعلیٰ حکام کے نوٹس اور مشاورت کے بعد تھانہ سیکرٹریٹ میں مبینہ ملزم کی موجودگی کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے غیر قانونی طور پر ایس ایس پی سیکیورٹی کے ڈپلومیٹک ایریا میں آفس منتقل کردیا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…