اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دو، دو بار قسمیں اٹھانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، اپنے جرم کا اقرار اور سچی توبہ کریں ورنہ ۔۔!قرآن پر جھوٹی قسم لینے اور دینے والا دونوں مجرم ہیں، چودھری شجاعت حسین کا انتباہ کردیا

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قرآن مجید پر جھوٹی قسم کھانا ووٹ کیلئے پیسے لینے سے بڑا جرم ہے، قرآن پر جھوٹی قسم لینے والا اور دینے والا دونوں مجرم ہیں، سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں ارکان اسمبلی خصوصاً خواتین ارکان سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف دینے کیلئے کہا گیا،

بعض نے تو مجبوری میں قسم اٹھائی وہ معافی مانگے کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے، جنہوں نے دو دو بار قسم اٹھائی وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ مجبوری کے تحت قسم اٹھانے کا کفارہ تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے، انہیں چاہئے کہ اپنے جرم کا اقرار کریں اورسچی توبہ کریں ورنہ ان کی اولادیں بھی انہیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خاندان نے آج تک الیکشن کے سلسلے میں کبھی کسی سے قسم نہیں لی، میرے والد کی شہادت کے جب میں اور چودھری پرویزالٰہی سیاست میں آئے تو سارا ضلع آپس میں متحد ہوگیا کہ انہیں سیاست میں آنے سے روکا جائے، ضلع کونسل کے الیکشن آئے تو اس وقت خفیہ رائے شماری نہیں ہوتی تھی بلکہ سب کے سامنے ہاتھ اٹھا کر ووٹ دیا جاتا تھا، ہم نے الیکشن میں حصہ لیا اور ہمارے مخالفین نے قرآن پر قسمیں لیں، ہم نے کسی سے کوئی قسم نہیں لی اور آخر میں اللہ کے فضل و کرم سے چودھری پرویزالٰہی ایک ووٹ سے ضلع کونسل کے چیئرمین بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے والد یہی کہتے تھے کہ انسانوں کی بجائے اللہ پر بھروسہ رکھیں اس میں کامیابی آپ کی ہی ہوگی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کو تو نہیں کہوں گا کہ وہ قرآن کو زیر بحث لائیں لیکن ان لوگوں سے ضرور درخواست کروں گا کہ وہ نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے اس غلط فعل کی معافی مانگیں اور آئندہ اس سے پرہیز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…