اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پنڈی میٹرو بس پراجیکٹ پر من گھڑت بیانات کی کمزور پالیسی سے کیا خان صاحب مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے !!!

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

لاہور( پ ر)عمران خان کی جانب سے آج ایک ٹویٹ میں راولپنڈی بس منصوبے پر کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے عمران خان نے کہا ’’ آڈٹ رپوورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شہباز شریف کی کرپشن کے باعث راولپنڈی میٹرو منصوبہ 5ارب روپے کا نقصان کر چکا ہے ۔اس پیسے سے شوکت خانم جیسا ایک بہترین ہسپتال بنوایا جا سکتا تھا۔جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے عمران خان کے بیان کی نفی کرتے ہوئے جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ اعداد و شمار پر مشتمل ہے

جس سے ہر بات کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے میٹرو بس پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاگیا کہ میٹرو بس پراجیکٹ کی کل لمبائی 27 کلومیٹر ہے اور کل لاگت بلین روپے ہے 30جبکہ میٹرو بس پشاور کی کل لمبائی 26کلومیٹر ہے اور تخمینہ لاگت اب 58بلین روپے تک پہنچ چکی ہے ۔۔پشاور میں میٹرو بس منصوبہ پنجاب کی تینوں میٹرو بس منصوبوں ( لاہور ،ملتان اورراولپنڈی) سے مہنگا تصور کیا جا رہا ہے ۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ ابھی تک ساڑھے چار سال گزر جانے کے بعد بھی اس منصوبے پر کام کا آ غاز تک نہیں کیا جا سکا ۔کل تک عمران خان کی جانب سے جنگلہ بس کے نام سے پکارے جانے والی میٹرو بس کو ان خان صاحب پشاور کے ترقیاتی منصوبوں میں گردانتے ہیں ۔پشاور میں میٹروبس منصوبے کے ماڈل اور سٹرکچر نگ کیلئے بیرون ممالک سے کمپنی کی خدمات حاصل گئیں ہیں جبکہ پنجاب میٹرو منصوبوں کیلئے پاکستانی کمپنی نیسپاک کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں۔۔ اگر ان اعدادوشمار کا بغور معائنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخواہ کی نسبت پنجاب میں نسبتاً کم پیسوں اورکم وقت میں اس منصوبے کو پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا ہے اور اب تک ان منصوبوں پر عوام کی بھاری اکثریت نے خوشی اور اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے ۔

اس بناء پر عوامی حلقوں میں خان صاحب کے ٹویٹ کو الیکشن سٹنٹ کے طور پر گردانا جا رہا اور کمپین کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا حقیقت سے چور چور تک کوئی یعلق نہیں ۔لیکن اس طرح کی کمزور پالیسی میکنگ سے کیا خان صاحب مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے !!‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…