پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے ،ہمیں ’گرے لسٹ‘ کرنے سے کوئی آفت نہیں آئے گی، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کھری کھری سناڈالیں

datetime 23  فروری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگر اب ایف اے ٹی ایف پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ کرتے بھی ہے تو کوئی آفت نہیں آئے گی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں شرکت کے بعد کراچی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا پر ایف اے ٹی اے اجلاس سے متعلق خیالی باتیں کی جا رہی ہیں، اسی لیے ہم بھارتی میڈیا کی خبروں پر نہیں بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی پاکستان پہنچا ہوں اور حکومت کا واضح مؤقف آنے تک کچھ نہیں کہہ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی 2012 سے 2015 تک پاکستان کو گرے لسٹ کیا گیا تھا جس کے بعد ہم نے ایف اے ٹی ایف کے تمام مطالبات پورے کیے تھے تاہم اب اگر پاکستان کو گرے لسٹ کرتے بھی ہیں تو کوئی آفت نہیں آئے گی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور گرے لسٹ ہونے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایک ہی راؤنڈ ہوتا ہے جس میں فیصلہ کرلیا جاتا ہے مگر اس بار ایسا نہیں ہوا جس پر ہمارے خدشات موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بلا وجہ زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہیگا اور ہماری اسٹاک ایکسچینچ اسی طرح کام کرتی رہے گی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس معاملے میں دوستوں کا کردار بہت اچھا رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان دنیامیں تنہا نہیں ہے۔یاد رہے کہ عالمی اداراے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی فہرست میں پاکستان کو شامل کرنے کی افواہیں بھارتی میڈیا پر زیر گردش تھیں جن کی بین الاقوامی تنظیم کے ترجمان نے بھی تردید کردی تھی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…