جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے ،ہمیں ’گرے لسٹ‘ کرنے سے کوئی آفت نہیں آئے گی، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کھری کھری سناڈالیں

datetime 23  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگر اب ایف اے ٹی ایف پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ کرتے بھی ہے تو کوئی آفت نہیں آئے گی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں شرکت کے بعد کراچی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا پر ایف اے ٹی اے اجلاس سے متعلق خیالی باتیں کی جا رہی ہیں، اسی لیے ہم بھارتی میڈیا کی خبروں پر نہیں بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی پاکستان پہنچا ہوں اور حکومت کا واضح مؤقف آنے تک کچھ نہیں کہہ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی 2012 سے 2015 تک پاکستان کو گرے لسٹ کیا گیا تھا جس کے بعد ہم نے ایف اے ٹی ایف کے تمام مطالبات پورے کیے تھے تاہم اب اگر پاکستان کو گرے لسٹ کرتے بھی ہیں تو کوئی آفت نہیں آئے گی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور گرے لسٹ ہونے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایک ہی راؤنڈ ہوتا ہے جس میں فیصلہ کرلیا جاتا ہے مگر اس بار ایسا نہیں ہوا جس پر ہمارے خدشات موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بلا وجہ زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہیگا اور ہماری اسٹاک ایکسچینچ اسی طرح کام کرتی رہے گی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس معاملے میں دوستوں کا کردار بہت اچھا رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان دنیامیں تنہا نہیں ہے۔یاد رہے کہ عالمی اداراے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی فہرست میں پاکستان کو شامل کرنے کی افواہیں بھارتی میڈیا پر زیر گردش تھیں جن کی بین الاقوامی تنظیم کے ترجمان نے بھی تردید کردی تھی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…