جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ بھی نیب کی زد میں آگئیں۔۔۔ سائرہ افضل تارڑ پر کس قسم کی کرپشن کے الزامات ہیں؟ جانئے

datetime 21  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ اگلے الیکشن میں صاف ہاتھوں کیساتھ عوام کے پاس جانا چاہتی ہوں،نیب نے میڈیکل کالجز بارے جو بھی انکوائری کرنی ہے 15 دن میں مکمل کرلے، میری شخصیت اور سیاسی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، دس سالہ سیاست میں کرپشن کا ایک کیس بھی ثابت نہیں ہوسکا۔

وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے یہ بات بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں اگلے الیکشن میں صاف ہاتھوں کیساتھ اپنے عوام کے پاس جانا چاہتی ہوں، نیب نے میڈیکل کالجز کے حوالے سے جو بھی انکوائری کرنی ہے 15دن کے اندر اندر مکمل کرلئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کیساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری دس سالہ سیاست میں ایک بھی کرپشن کا کیس مجھ پر ثابت نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ میں تحقیقات سے بچنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اس بات کا دکھ ہوا کہ میری شخصیت اور میری سیاسی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب جلد از جلد اپنی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ دے تاکہ مجھ پر لگنے والے بے بنیاد الزام کی حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے 5 لوگوں کے خلاف نیب کی طرف سے انکوائری ہوئی لیکن سب بے گناہ ثابت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے میں نے وزارت سنبھالی ہے سب سے پہلے جن کاموں کو ٹھیک کرنے کی شروعات کی ان میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن بند کی جن میں تعلیم غیر معیاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھی میڈیکل کالجز تعلیم کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کے حوالہ سے جو بھی کاغذ نیب کو چاہئیں میں فراہم کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں جن کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ میرے خلاف کس نے درخواست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے جو میرے خلاف کرنا تھا کر لیا۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ آپ بھی میری آنکھیں اور کان ہیں، آپ سے زیادہ کچھ کون جانتا ہے، ان چار سال میں مجھے بہت اپروچ کیا گیا لیکن میں سچ کے راستے پر ڈٹی رہی کیونکہ میرا اپنا بھی ایک ضمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وزارت کو میں نے اٹھایا، دن رات محنت کی، آج پوری دنیا میں وزارت کے کاموں کو سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ اور حق پر چلنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج میڈیکل کالجز کا کوئی معیار بنایا ہے، دیانتداری کے بعد اگر یہ صلہ ملنا ہے تو بھی کوئی کیا کام کرے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…