اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

’’باتیں کروڑوں کی دُکان پکوڑوں کی‘‘ بلین ٹری سونامی۔۔ کپتان کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی سرکاری دستاویزات منظر عام پر ، سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 13  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(پ ر)بلاشبہ اپنی افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے کے پی کے میں ایک ارب پودوں کی شجرکاری ایک انقلابی اقدام تصور کیا جا رہا تھا جسے تجزیہ کار دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید قرار دہے تھے ۔اِن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ چار سالہ دورحکومت میں وہ واحد میگا منصوبہ ہے جس کے دوررس نتائج مرتب ہونگے جس کے مثبت ماحولیاتی اثرات سے دیگر

صوبوں میں بھی جائیں گے ۔اگر یہ منصوبہ اپنے دعوؤں کے عین مطابق پایہ تکمیل تک پہنچ جاتاتو ۔مگر ایسا ہوا نہیں ۔کیونکہ خود سرکاری دستاویزات نے اعدادوشمار کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کی قلعی کھول دی ہے ۔دستاویزی حقائق کے مطابق شجرکاری کے اس منصوبے میں سنگین کرپشن، بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اصل میں صرف20فیصد یعنی24کروڑ پودوں کی شجرکاری ہوئی۔ 75کروڑ 90لاکھ پودے وہ ہیں جو قدرتی طور پر خود بخود اُگتے ہیں۔ اس میں کسی انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ 24کروڑ پودوں میں سے بھی 15کروڑ 30لاکھ وہ ہیں جو لوگوں میں مفت تقسیم کئے گئے۔ اس طرح ساڑھے بارہ ارب روپے کے اس پراجیکٹ میں نرسریوں کے انتخاب سے لے کر پودوں کی خریداری، تقسیم اور شجرکاری میں افسوسناک بے قاعدگیاں پائی گئیں، کام کی نگرانی نچلے درجے کا عملہ کرتا رہا جو اپنے فرائض شفاف طریقے سے ادا نہ کرسکا چنانچہ 3سو سے زائد اہلکاروں کو کرپشن کے الزامات میں برطرف کر دیا گیا جو بجائے خود منصوبے کی ناکامی کا اعتراف ہے اور منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان بھی۔ اپوزیشن پارٹیوں خصوصاً اے این پی نے منصوبے کے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں اور نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جنگلات میں اضافہ کرنے کے لئے صوبائی حکومت کی یہ اچھی کوشش تھی

مگر نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ناکام رہی۔ غلطی جس کی بھی ہے اور جہاں بھی ہوئی حکومت کو چاہئے کہ اسے مان لے اور نیب کے ذریعے اس کی شفاف تحقیقات کرائے‎۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…