منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

رانا ثنا نے جس طرح میری معصوم مقتولہ بچی کا میڈیا پر مذاق اڑایا اس سے پتہ چلتا ہے کہ۔۔زینب کے غمزدہ والد پھٹ پڑے، آرمی چیف سے ایک بار پھر مدد طلب کر لی

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

قصور(این این آئی)قصورمیں جنسی تشددکے بعد قتل ہونے والی زینب کے والدحاجی محمدامین ا نصاری نے کہاہے کہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی کے کیس میں انصاف کے حصول کا مطالبہ کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے اسلئے ہم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی

کے کیس میں انصاف کے حصول اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے ‘پولیس اگر اتنی فرض شناس ہوتی تو ہماری بیٹی کیساتھ آنے والے المناک واقعہ سے پہلے زیادتی کی مرتکب معصوم جانو ں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جاچکی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی بیٹی کیساتھ ہونیوالے سانحہ پر آنسو بہارہے ہیں پوری قوم کا ہماری بیٹی کیساتھ ہونیوالے المناک سانحہ پر ملزم کی گرفتاری کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر میں پوری قوم کا شکرگزارہوں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کام ہوتاہے کہ وہ مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر ان کو حوصلہ دیتے ہیں تاہم صوبائی وزیر قانون نے ہمارے ساتھ آنے والے واقعہ کا جس طریقے سے میڈیا پر مذاق اڑایا اس سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ غریب کی بیٹی کی عزت کی اس ملک میں کوئی قیمت نہیں ہے۔واضح رہے کہ ننھی زینب کے قتل کو کئی دن گزر جانے کے باوجود حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس کے قاتل کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جبکہ غمزدہ خاندان نہ پنجاب پولیس بلکہ حکمرانوں کے رویوں پر بھی شاکی نظر آتا ہے۔ اس سے قبل بھی زینب کے والد  پنجاب پولیس پر اپنے تحفظات کا اظہارکر چکے ہیں۔ زینب قتل کیس میں قصور پولیس کی نا اہلی، نا لائقی اور رشوت ستانی کی شکایت بھی کھل کر منظر عام پر آچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…