جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ملائیشیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آنے والانوجوان 2 بااثر شخصیات کے بیٹوں سے جھگڑے کے بعدقتل،کار میں ایک لڑکی بھی تھی جو موقع سے فرار ہوگئی،حیرت انگیزانکشافات

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیفنس میں کار پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ الجھ گیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کار میں ایک لڑکی بھی تھی جو موقع سے فرار ہوگئی۔ بعدازاں ڈی آئی جی سی آئی نے انکشاف کر دیا کہ فائرنگ میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکار ملوث ہو سکتے ہیں جنھیں حراست میں لے لیا گیاہے۔فائرنگ کا واقعہ درخشاں بخاری کمرشل اور خیابان اتحاد کے قریب پیش آیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 23 انتظار احمد کے نام سے ہوئی جو ڈیفنس کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا تھا۔دوسری جانب مقتول کے والد اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا ملائیشیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو پاکستان آیا تھا اور چند روز قبل اس کا 2 بااثر شخصیات کے بیٹوں سے جھگڑا بھی ہوا تھا جنھوں نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیٹے کی کار پر فائرنگ میں ایک پراڈو جیپ اور کار ملوث ہے، میرا بیٹا گھر سے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے مجھے بتا کر نکلا تھا۔واقعہ کی اطلاع پر آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سی آئی اے ثاقب اسمٰعیل میمن کو تحقیقاتی افسر مقرر کر دیا اور انھوں نے چند گھنٹوں کے تحقیقات کے بعد جناح اسپتال میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جس مقام پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا اس سے کچھ فاصلے پر اینٹی کار لفٹنگ سیل پولیس کے اہلکار تعینات تھے تاہم فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فائرنگ میں براہ راست پولیس اہلکار ملوث ہیں یا کسی ملزم کے ساتھ جوابی فائرنگ کی زد میں آکر انتظار احمد جاں بحق ہوا تاہم پولیس نے اے سی ایل سی کے چاروں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ڈیفنس میں کار پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ الجھ گیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…