اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آنے والانوجوان 2 بااثر شخصیات کے بیٹوں سے جھگڑے کے بعدقتل،کار میں ایک لڑکی بھی تھی جو موقع سے فرار ہوگئی،حیرت انگیزانکشافات

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیفنس میں کار پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ الجھ گیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کار میں ایک لڑکی بھی تھی جو موقع سے فرار ہوگئی۔ بعدازاں ڈی آئی جی سی آئی نے انکشاف کر دیا کہ فائرنگ میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکار ملوث ہو سکتے ہیں جنھیں حراست میں لے لیا گیاہے۔فائرنگ کا واقعہ درخشاں بخاری کمرشل اور خیابان اتحاد کے قریب پیش آیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 23 انتظار احمد کے نام سے ہوئی جو ڈیفنس کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا تھا۔دوسری جانب مقتول کے والد اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا ملائیشیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو پاکستان آیا تھا اور چند روز قبل اس کا 2 بااثر شخصیات کے بیٹوں سے جھگڑا بھی ہوا تھا جنھوں نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیٹے کی کار پر فائرنگ میں ایک پراڈو جیپ اور کار ملوث ہے، میرا بیٹا گھر سے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے مجھے بتا کر نکلا تھا۔واقعہ کی اطلاع پر آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سی آئی اے ثاقب اسمٰعیل میمن کو تحقیقاتی افسر مقرر کر دیا اور انھوں نے چند گھنٹوں کے تحقیقات کے بعد جناح اسپتال میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جس مقام پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا اس سے کچھ فاصلے پر اینٹی کار لفٹنگ سیل پولیس کے اہلکار تعینات تھے تاہم فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فائرنگ میں براہ راست پولیس اہلکار ملوث ہیں یا کسی ملزم کے ساتھ جوابی فائرنگ کی زد میں آکر انتظار احمد جاں بحق ہوا تاہم پولیس نے اے سی ایل سی کے چاروں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ڈیفنس میں کار پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ الجھ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…