جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نیب میں پسند ناپسند کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، دفتر خارجہ نے بھی ریکارڈ چھپا لیا ہے، ایک بدعنوان سینیٹرکی تحقیقات 3 سال میں مکمل کیوں نہ ہو سکیں؟

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب میں پسند ناپسند کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ چیئرمین نیب نے سینیٹر سحر کامران کیخلاف 50 لاکھ بدعنوانی کا مقدمہ کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے جبکہ دیگر ملزمان کے مقدمات کو ترجیح بنیادوں پر دیکھا جارہا ہے۔ سحر کامران کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے بعد انتہائی قربت رکھتی ہیں سینئر سحر کامران پر الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری سکول جدہ کی پرنسپل کی حیثیت سے

1 لاکھ 70 ہزار سعودی ربانی کی مالی بے قاعدگی کی تھی۔ سحر کامران نے گورنمنٹ سکول جدہ سعودی عرب کی پرنسپل کی حیثیت سے سرکاری خرچ کر درجنوں پاکستان کے دورے کئے اور بزنس کلاس میں سفر بھی کیا اس کے علاوہ بچوں کی فلاح و بہبود پر مختص فنڈز سے بھی بھاری اخراجات کئے ہیں کو بعد میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ مقدمہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نے سحر کامران کیخلاف مالی بدعنوانی کی شکایت سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کو دی۔ بعد میں مالی بے قاعدگیوں کا معاملہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے بھی نوٹس لیا پھر یہ مقدمہ نیب کو ارسال کیا گیا لیکن 3 سال گزرنے کے باوجود بھی سحرکامران کے خلاف تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں اب دفتر خارجہ نے اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کے لئے مقدمہ وزارت اوورسیز پاکستانی کو سونپ دیا ہے اور نیب کو متعلقہ ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا جس کے نتیجہ میں تحقیقات سردخانے کی نذر ہوچکی ہیں نیب حکام نے بھی دو وزارتوں سے ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے معاملہ کوالتواء میں رکھا ہوا ہے۔  نیب میں پسند ناپسند کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ چیئرمین نیب نے سینیٹر سحر کامران کیخلاف 50 لاکھ بدعنوانی کا مقدمہ کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے جبکہ دیگر ملزمان کے مقدمات کو ترجیح بنیادوں پر دیکھا جارہا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…