جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا دفاع مضبوط اور اپنا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے،خرم دستگیر

datetime 4  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن )وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے ، پاکستان کے تحفظ بارے میں کسی قسم کا خوف نہیں ، امریکہ کی ہر متوقع شرارت کا سامنا کرنے کیلئے بالکل تیار ہیں ، پاکستان اپنے وسائل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے امریکہ جسے امداد کہہ رہا ہے وہ دراصل اسپورٹ کولیشن فنڈز ہیں، امریکہ نے اسپورٹ کولیشن فنڈز کی مد میں پاکستان کو 10 ارب ڈالرز دینے ہیں،

امریکہ نے زیادہ امداد پرویز مشرف دور میں دی، ڈکٹیٹروں نے جو کچھ کیا اس کا حساب جمہوری حکومتیں دے رہی ہیں،ایک طرف ٹرمپ پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکی ایڈمنسٹریشن کا وہ حصہ بھی ہے جو سفارتی آداب کے اندازہ کرکے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے وسائل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ امریکی امداد نہ ہونے کے برابر ہے امریکہ کا امداد روکنا ہمارے لیے اچھنبے کی بات نہیں، امریکہ نے اسپورٹ کولیشن فنڈز کی مد میں پاکستان کو 10 ارب ڈالرز دینے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پاکستان کو امداد ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں آئی آمروں نے جو کچھ کیا اس کا حساب جمہوری حکومتیں دے رہے ہیں۔جس کو امداد کہہ رہا ہے وہ اسپورٹس کولیشن فنڈز ہیں، پاکستان افغان سرزمین میں امن چاہتا ہے اور افغان مہاجرین کی افغانستان باعزت واپسی چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، اب پاکستان امریکی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کے بارے میں ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے پاکستان کا دفاع مضبوط ہے امریکہ کے کسی بھی غیر معمولی حرکت جس سے پاکستان کو نقصان ہو اس کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹرمپ پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے

جبکہ دوسری طرف امریکی ایڈمنسٹریشن کا وہ حصہ بھی ہے جو سفارتی آداب کے اندازہ کرکے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے امریکہ کے سیکرٹری دفاع جیمز میٹس اور سٹیٹ سیکرٹری ریکس ٹیلرسن کی گفتگو سفارتی آداب کے مطابق تھی اور دونوں کی گفتگو میں دھمکی یا توہین کا کوئی عنصر نہیں تھا انہوں نے کہا کہ موجودہ

صورتحال کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت ساری صورتحال جائزہ لے رہی ہے ہم ٹھنڈے دل سے دماغ کے ساتھ اپنی حکمت عملی مرتب کررہے ہیں ہم ابھی بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مل کر معاملات کو آگے بڑھایا جائے ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…