جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نیب ریفرنسز،شریف خاندان کیخلاف استغاثہ کے مزید 2 گواہان کے بیانات قلمبند

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این ایل آئی)سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف استغاثہ کے مزید 2 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرادیے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنسز کی سماعت کی، اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم اور

زوار منظور نے اپنے بیانات قلمبند کرائے جن پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے جرح بھی مکمل کرلی۔ استغاثہ کے گواہ کمشنر ان لینڈ ریونیو محمد تسلیم اپنا بیان قلمبند کرانے کے بعد جاتے ہوئے نواز شریف سے ہاتھ ملا کر گئے۔سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ان لینڈ ریونیو کی عہدیدار فضا بتول کے حکم پر نیب آفس گیا جہاں نواز شریف، حسن اور حسین نواز کا ویلتھ ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ فضا بتول کا تصدیق شدہ ریکارڈ بھی جمع کرایا۔گواہ محمد تسلیم نے مزید بتایا کہ 21 اگست 2017 کو نیب میں ان لینڈ ریونیو کے نمائندہ جہانگیر احمد بھی موجود تھے جنہوں نے تفتیشی افسر کامران محبوب کو نواز، حسن اور حسین نواز کا انکم ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ ریکارڈ وصول کرنے کے بعد بیان بھی قلم بند کرایا۔ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب زوار منظور نے بھی اپنا بیان قلمبند کرادیا، جن کا کہنا تھا کہ جوائنٹ رجسٹرار ایس ای سی پی سدرہ منصور نے پیش ہو کر حدیبیہ پیپر ملز کا سالانہ آڈٹ ریکارڈ فراہم کیا۔گواہ نے بتایا کہ ریکارڈ تفتیشی افسر نے میری موجودگی میں تحویل میں لیا اور میں نے بطور گواہ ریکارڈ پر دستخط کیے، تفتیشی افسر کے سامنے 6 ستمبر 2017 کو پیش ہوا، کلرک محمد رشید نے 11 صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائیں، چار صفحات پر مشتمل لندن کوئین بنچ کا حکم نامہ بھی جمع کرایا گیا۔گواہوں پر جرح مکمل کرنے کے

بعد عدالت ریفرنسز کی مزید سماعت 9 جنوری تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے مزید 6 گواہان کو طلب کرلیا۔خیال رہے کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ کی 18، ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی 17 اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 21 سماعتیں ہوچکی ہیں۔ نواز شریف 10 مرتبہ، مریم نواز 12 اور کیپٹن (ر) صفدر 14 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…