بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

4سال میں عمران خان اپنے حلقہ قومی اسمبلی این اے 56 میں کتنی بار گئے؟اور اب تک کتنے ترقیاتی کام کروائے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

راولپنڈی(آئی این پی)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 56 کے رہائشی اپنے منتخب کردہ لیڈر عمران خان کے 4 سال سے دیدار کے منتظر‘ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس جلسے جلوسوں کیلئے تو وقت ہے لیکن اپنے ووٹرزکے لیے ان کی طرف سے نولفٹ ہے۔ عمران خان نے 2017ء میں بھی اپنے حلقے این اے چھپن کا دورہ نہیں کیا۔تفصیلات کے مطابق سال 2013 کے عام انتخابات میں تین نشستوں پرکامیابی کے بعد

راولپنڈی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے والے عمران خان کے اس اعلان پر این اے چھپن کے ووٹرز خوشی سے سرشار ہوئے تھے لیکن سب کچھ وقتی ثابت ہوا۔ عمران خان نے ان گزرے سالوں میں کبھی حلقے کا چکر ہی نہیں لگایا۔2017ء میں بھی عمران خان کے حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ٹوٹی سڑکیں ، نالوں کی تعمیر میں تاخیر اور فلٹریشن پلانٹس کی حالت زار پر این اے 56 کے رہائشی شکوہ کناں ہیں۔ کہتے ہیں آج تک عمران خان صاحب اس حلقے میں نہیں آئے۔ نہ ہی ان کی پارٹی کا کوئی بندہ یہاں کسی کی خوشی یا غمی میں شریک ہوا۔عوام کے مطابق یہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے اس لیے ہم نے ان کو ووٹ دیا لیکن جیتنے کے بعد انھوں نے مڑ کر یہاں نہیں دیکھا۔مسلم لیگ ن کے رہنماحنیف عباسی نے بھی دل کی بھڑاس خوب نکالی۔ کہتے ہیں یہ حلقہ تو کبھی ان کا تھا ہی نہیں۔ ان کی جہاں حکومت ہے وہاں کوئی کام نہیں کیا تو اس حلقے میں کیسے کام کروا سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…