بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کلبھوشن سے متعلق جذباتی تقریر سنی لیکن کشمیری قیدیوں سے سلوک بھی کوئی شاندار نہیں،یاسین ملک کا سشما سوراج کو خط

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام خط میں کہا ہے کہ کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کے بارے میں آپ کی جذباتی تقریر سنی لیکن کشمیری قیدیوں سے بھارت کا سلوک بھی کوئی شاندار نہیں،میری والدہ کو بھی بھارتی فوج نے مجھ سے ملنے نہیں دیا جبکہ جبری لاپتہ کشمیریوں کی بیواؤں کو ’’آدھی بیوائیں‘‘ کہا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی جیل میں قید

کشمیری حریت رہنما یاسمین ملک نے ایک خط میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو کہا ہے کہ کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کے حوالے سے آپکی جذباتی تقریر سنی ہے جس میں آپ نے کہا کہ کلبھوشن کی والدہ اپنے بیٹے کو سینے سے لگانا چاہتی تھی لیکن شاید آپ بھول گئیں کہ بھارتی فوج نے بھی میری والدہ کو مجھے سینے سے لگانے کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ1999ء میں جودھ پور جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے میری بہن کو مجھ سے

ملنے نہ دیا اور وہ ہزاروں میل کا سفر کرکے آنے کے باوجود ملاقات کے بغیر واپس گئیں۔یاسین ملک نے کہا کہ مقبول بٹ کو اہلخانہ سے آخری ملاقات کرائے بغیر پھانسی دی گئی بلکہ ان کی غیر موجودگی میں ہی دفن بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ افضل گورو کے12سالہ بیٹے اور80سالہ ماں کو بھی آخری ملاقات کا موقع نہ دے کر بھارت نے کشمیری قیدیوں سے کوئی شاندار سلوک نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…