جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں ہائی کورٹ سمیت ضلعی عدالتوں میں گزشتہ 10 مہینوں میں کتنے دن وکلاء نے ہڑتال کی؟ناقابل یقین انکشاف

datetime 31  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدالتوں کے حوالے سے موجود منفی تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم احکامات مسلط کررہے ہیں جبکہ خیال رہے کہ پنجاب کے ججز مشکلات کے باوجود محنت سے کام کررہے ہیں،رواں سال 30 لاکھ میں سے 21 لاکھ مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 12 لاکھ مقدمات تاحال زیرسماعت ہیں۔ ضلعی عدلیہ کے مستقبل کے موضوع پر ہونے

والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ پنجاب میں ہائی کورٹ سمیت ضلعی عدالتوں میں گزشتہ 10 مہینوں میں ہڑتالیں مجموعی طور پر 3ہزار 840 ریکارڈ کی گئیں اور یوں تقریبا 12 لاکھ کیسز سماعت سے محروم رہے۔انہوں نے کہا کہ ہڑتالوں کے اسباب پر روشنی ڈالیں تو افسوس ہوتا ہے کہ کوئی ٹھوس جواز نہیں کہ ہڑتال کی جا ئے۔اگر 3ہزار 840 ہڑتال نہیں ہوتی تقریباً 2 لاکھ 40ہزار مقدمات کے فیصلے ہو جاتے۔انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کی آبادی 11 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔انہوں نے بار ایسوسی ایشنز کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بار کے عہدیداران کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلے صریحا ان کی مخالفت میں کیے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے بھی کوئی اقدامات اٹھائے جائیں تو اسے بھی وکیل اپنی مخالفت سمجھتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کمرہ عدالت میں کیمرہ لگا کر جج اور وکیل کی کارروائی ریکارڈ کرنے میں بھی وکیلوں کو کیوں اعتراض ہے؟۔منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ناراضگی والی بات نہیں کہ وکیل جج سے بدتمیزی کریں۔انہوں نے کہا کہ بطور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، کسی جج کا ٹرانسفر کرنا میرے انتظامی امور میں شامل ہے جبکہ جس کے تحت تبادلے روکنے کے لیے بھی مجھے پرچی بھیجی جاتی ہے اور اگر اس پر عملدرآمد نہ ہو تو ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات پر سخت دبا ؤ کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل بد عنوان ججز کے خلاف کارروائی سے ہوا لیکن وکلا سمجھتے ہیں کہ احتساب صرف ان کی صفوں میں ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…