جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

لاہور ،پنجاب حکومت کے افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو بچانے کیلئے متحرک

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (آن لائن)پنجاب حکومت کے اعلی افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو بچانے کیلئے متحرک ہو گئے، ماڈل ٹاؤن جوڈیشل انکوائری سے منسلک شہباز شریف، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر کے بیان حلفی، آڈیو ویڈو ریکارڈ غائب کر دیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرہ شہری قیصر اقبال کی طرف سے محکمہ داخلہ پنجاب کو مراسلہ لکھا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری سے منسلک وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، وزیر قانون رانا ثناء اللہ سمیت دیگر افسروں اور

اہلکاروں کے بیان حلفی اور آڈیو ویڈیو بیانات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے لیکن محکمہ داخلہ پنجاب نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویزات موجود نہیں ہیں جس کے بعد شہری نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو مراسلہ لکھا اور رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے بھی جوابی مراسلے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویز ہائیکورٹ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی عدالت عالیہ ایسی انکوائریوں سے منسلک دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی پابند ہے، پنجاب کی اعلی بیوروکریسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری سے منسلک بیان حلفی اور دیگر ریکارڈ غائب کر دیئے گئے ہیں تاکہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی مستقبل کی سیاست کو بچایا جا سکے، آئینی ماہر چودہدی شعیب سلیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بیان حلفی اس لئے غائب کئے گئے ہیں تاکہ ان دونوں کو نااہلی سے بچایا جا سکے کیونکہ بیان حلفی اور جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق جھوٹ بولنے کی بنیاد پر دونوں شخصیات آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی نااہلی کے حوالے سے انہوں نے ایک آئینی درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے، لگتا ہے کہ یقینی نااہلی سے بچنے کیلئے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بیان حلفی اور ریکارڈ غائب کیا گیا ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…