جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈورے مون کارٹون کاتنازعہ اسمبلی میں بھی پہنچ گیا،اس کارٹون کے بچوں پر کیسے اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ چونکادینے والے انکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ڈورے مون کارٹون اور بھارتی ڈراموں کی نمائش کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جبکہ اپنی دکانداری چمکانے کی خاطر کیبل آپریٹر اور پاکستانی ٹی وی چینلز پابندی کے باوجود ڈورے مون اور بھارتی ڈرامے

چلا رہے ہیں جس سے بچوں پر منفی اثرات اور بھارتی ثقافت کی یلغار سے اسلامی اقدار متاثر ہو رہی ہیں لہذا پنجاب کے اس مقدس ایوان کی متفقہ رائے ہے کہ حکومت کیبل آپریٹرز اور پاکستانی ٹی وی چینلز کو ڈورے مون اور بھارتی ڈراموں پر لگی پابندی پر عمل درآمد کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی کرے، واضح رہے کہ ڈورے مون کارٹون ایسی تخیلاتی دنیا پر مبنی ہیں کہ جن کو دیکھ کر بچے صرف اسی کارٹون کے ہوجاتے ہیں اور ان کا پڑھنے لکھنے سے دل مکمل طورپر اُٹھ جاتا ہے اس کے بعد باوجود کوشش کے ماں باپ بچوں کے ذہن سے اسے نہیں نکال پاتے بہت سے والدین اس سلسلے میں پریشانی کا شکار ہیں ایسے کارٹونز بچوں پر انتہائی برے نفسیاتی اثرات مرتب کررہے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ڈورے مون کارٹون اور بھارتی ڈراموں کی نمائش کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جبکہ اپنی دکانداری چمکانے کی خاطر کیبل آپریٹر اور پاکستانی ٹی وی چینلز پابندی کے باوجود ڈورے مون اور بھارتی ڈرامے چلا رہے ہیں جس سے بچوں پر منفی اثرات اور بھارتی ثقافت کی یلغار سے اسلامی اقدار متاثر ہو رہی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…