جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک جہاں سے بھی گزریگی وہاں کیا کچھ کیا جائے گا؟پاکستان نے اہم ترین اعلان کردیا، افغانستان کوبڑی خوشخبری سنادی گئی

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ +نوشکی(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ سی پیک صرف پاکستان چائنا اکنامک کوریڈور کا نام نہیں بلکہ سی پیک کو افغانستان اور سینٹرل ایشیاء سے جوڑینگے سی پیک صرف گزرگاہوں کا نام نہیں بلکہ سی پیک جہاں سے بھی گزریگی وہاں تجارتی مراکز قائم ہونگے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور ترقی ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشکی میں سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی سب کیمپس کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا

تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی میر غلام دستگیر بادینی اور رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی نے بھی خطاب کیا وزیر داخلہ نے کہاکہ دنیا میں ان ملکوں کی عزت ہوتی ہے جسکی معیشت مضبوط ہو استحکام اور امن ہو۔پاکستان ایک گلدستہ کی مانند ہے۔پاکستان میں ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں مذہب،زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہونی چاہئے ورنہ ان جذبوں کی نفی ہوگی جس پر پاکستان قائم ہے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013میں ہماری حکومت برسر اقتدار آئی نواز شریف کے وڑن کے تحت بلوچستان کی محرومی پسماندگی کے خاتمے کا آغاز کیا۔صوبے میں ایک ہزار کلومیٹر سڑکیں بنائی جارہی ہیں پانی کے منصوبوں پر اربوں روپے کے فنڈز سے کام جاری ہے متعدد چھوٹے ڈیمز بنائے جارہے ہیں جبکہ کچھی کینال سے ہزاروں ایکڑ اراضیات کو سیراب کیا جو کہ اکنامی میں انقلاب برپا ہوگی۔تھر میں کوئلے کے ذخائر چار سو سال توانائی کے ضروریات کو پورے کرنے کے لیے کافی ہیں سعودی اور ایران کے تیل کی ذخائر کو یکجا کرنے کے باوجود بھی ہمارے ذخائر زیادہ ہیں۔تھر میں دو مائنز اور چھ پاور پراجیکٹ پر کام جاری ہے نوشکی میں سب کیمپس کا قیام ہمارے خوابوں کا تعبیر ہے دو سال قبل ان منصوبوں پر کام شروع کیا جو اب حقیقت کا روپ دھار رہی ہے ہر ضلع میں سب کیمپس بنانا شروع کردیا پسماندوں علاقوں اعلی تعلیم کا خواب تکمیل ہورہا ہے ہر شعبہ میں خواتین نمایاں کردار ادا کررہی ہے موجودہ دور ٹیکنالوجی اور تعلیم کا ہے زندگی کا ہر شعبہ میں تبدیلی ہورہی ہیں۔اس موقع پر ایم این اے میر عثمان بادینی اور رکن صوبائی اسمبلی میر دستگیر بادینی عمائدین بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…