جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بدبخت بیٹے نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر ماں کو قتل کردیا، لاش کے ساتھ انتہائی افسوسناک سلوک 

datetime 28  دسمبر‬‮  2017 |

حیدرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حیدرآباد میں بدبخت بیٹے نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر ماں کو قتل کرکے لاش گاڑی سمیت جلادی۔ پولیس نے ملزمان کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی حیدرآباد پیر محمد شاہ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تین ہفتے قبل ہوسڑی کے علاقے میں ایک گاڑی میں جلی ہوئی لاش ملی جس کی تحقیقات پر پتہ چلا کہ وہ لاش سائرہ نصیر کی ہے جس پر ہم نے جانچ پڑتال کی کوشش کی،

فرانزک رپورٹ کرائی اور سینکڑوں لوگوں سے اس کیس سے متعلق معلومات کی، تاہم پھر ہمیں کچھ شواہد ملے کہ اس قتل میں مقتولہ سائرہ نصیر کا بیٹا فہد شاہ اور اس کی بہو صدف ملوث ہے جس پر ہم نے انہیں حراست میں لے کر تفتیش کی تو دونوں ملزمان نے قتل کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم فہد نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا ہے کہ ایک روزہ پہلے وہ رات دیر سے اپنی نوکرانی کو ہوسڑی چھوڑنے گیا تھا جہاں راستہ ویران ہونے کی وجہ سے وہ آدھے راستے سے ہی واپس آگیا اس کی وجہ سے اسے اندازہ تھا کہ اس جگہ پر یہ واردات کرنا آسان ہے اور وہ گاڑی میں اپنی ماں کو ڈال کر یہاں سے لے گیا اور اس نے وہاں لے جاکر گاڑی سمیت اسے جلادیا تاکہ کوئی ثبوت نہ رہے۔ سائرہ نصیر کے بیٹے فہد شاہ نے بتایا کہ اس نے پسند کی شادی کی تھی جس پر اس کی ماں ناراض تھی اور وہ 6دسمبر کی رات کو جب اپنے گھر پہنچا اور ماں کو سمجھایا کہ اب معاملے کو رفع دفع کریں وہاں بھی اس کی ماں سے تلخ کلامی ہوئی جس پر ماں نے اسے تھپڑ رسید کیاتو فہد نے مشتعل ہوکر موسلی سے اپنی ماں کو ضرب لگائی، وہ بے ہوش ہوگئی جس کے بعد وہ تڑپنے لگی تو اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اسے گاڑی میں ڈال کر ہوسڑی لے گیا جہاں اس نے پیٹرول چھڑک کر گاڑی پر آگ لگائی جس کے بعد وہ چار میل کی پیدل مسافت طے کرکے فتح چوک پہنچے جہاں سے وہ رکشے میں بیٹھ کر اپنے فلیٹ لطیف آباد پہنچا اور وہاں پڑوسیوں سے رکشے کے کرائے کے پیسے لے کر دیئے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ملزم فہد کی بیوی صدف کو جوکہ کراچی گلشن حدید میں رہتی ہے وہاں سے گرفتار کیا تو مزید کہانی اس کی بیوی نے یہ سوچ کر بتادی کہ اب ساری بات کھل گئی ہے ۔ جس پر اس نے سب کچھ سچ سچ بتادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…