جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام میں ہڑتال کاتصورنہیں ،پاکستان میں وکیل کا چالان ہوجائے تو وکلا ہڑتال کر دیتے ہیں ،سپریم کورٹ

datetime 27  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں ضمانت کے کیس کے دوران جسٹس دوست محمد اورجسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیئے کہ اسلام میں ہڑتال کاتصورنہیں ہے، لیکن ہمارے ملک میں وکیل کا چالان ہوجائے تو وکلاء4 ہڑتال کر دیتے ہیں، یہاں لوگ خوشی میں گالیاں دیتے ہیں جیسے دھرنے والے کیس میں ہم نے دیکھا۔ کیس کی سماعت جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں میں دو رکنی بنچ نے کی، جسٹس دوست محمد اورجسٹس قاضی

فائزعیسی نے ماتحت عدالتوں میں مقدمات میں التواء4 اورہڑتالوں کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں ہڑتال کاتصورنہیں ہے، وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوکرآئینی نظام کی نفی کرتے ہیں، جس پر وکیل ذوالفقارملوکانے کہا کہ ہڑتال نہیں ہونی چاہیے، اس طرح کے رویے سے وکلاء4 کی بدنامی ہورہی ہے، جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ وکلاء4 جس دن پیش نہیں ہوتے اس دن کی تنخواہ ہم پرحرام ہوجاتی ہے، جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کاٹریفک والے چالان کریں تودوسرے دن ہڑتال کردیتے ہیں، بیس سال پرانی بارکونسل کا نظام لے آئیں سب صحیح ہوجائے گا، جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آج وکلاء4 کل پراسیکیوٹرزپھرجج بھی ہڑتال کریں گے ہمیں انصاف کی فراہمی کویقینی بناناہے، وکیل نے کہاکہ عدلیہ بحالی تحریک کے بعد کچھ وکلاء4 بے قابوہوگئے ہیں، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ عدلیہ بحالی تحریک آئین کی بحالی کیلئے تھی، آئینی تحریک اور وکلا ہڑتال میں بہت فرق ہے، یہاں لوگ خوشی میں گالیاں دیتے ہیں جیسے دھرنے والے کیس میں ہم نے دیکھا، جسٹس دوست محمد نے کہا کہ وہ گالیاں مسنون گالیاں ہوں گی، بعد ازاں عدالت نے ملزم وقاص کی ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔۔ ملزم پراکیس جون دوہزارسولہ کو وہاڑی میں مقصود نامی شخص کوزخمی کرنے کاالزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…