جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی314سیاسی جماعتیں الیکشن نہیں لڑسکتیں،فہرست جاری

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آ باد(آن لائن) انتخابات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے سیاسی جماعتوں کوانتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت کیلیے درکار سخت قانونی تقاضوں کی بدولت سیاسی جماعتیں مشکل میں پھنس گئیں۔الیکشن کمیشن میں جمیعت علمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی،

جے یو آئی (س) سمیت 314 سیاسی جماعتیں تاحال آئندہ انتخابات لڑنے کی اہل نہیں ہوئیںاور صرف 11 فیصد سیاسی جماعتیں مطلوبہ معیار پر پورا اتریں۔الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ملک کی 352 سیاسی جماعتوں میں سے اب تک صرف 38 سیاسی جماعتوں نے 2 ہزار پارٹی ممبران کے کوائف اور 2 لاکھ روپے کی رجسٹریشن فیس سمیت تمام قانونی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ہیں۔الیکشن کمیشن میں اس وقت 352 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈہیں، ان میں موجودہ حکومت کی اہم اتحادی جمیعت علمائے اسلام (ف) اور دوسری مذہبی جماعت جے یو ا?ئی (س)نے تاحال الیکشن کمیشن میں اپنے 2 ہزار پارٹی کارکنوں کے تصدیق شدہ کوائف اور پارٹی رجسٹریشن کی مد میں اسٹیٹ بینک میں 2 لاکھ روپے جمع نہیں کرائے۔واضح رہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت صرف 38 سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے نافذکردہ قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ انتخابات ایکٹ کی منظوری کے بعد 89 فیصد سیاسی جماعتیں انتخابی عمل سے باہر ہوتی نظر آ رہی ہیں کیونکہ اب تک بیشتر سیاسی جماعتیں مطلوبہ قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہیں، یہ ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کا ڈھانچہ ہی مکمل نہیں ہے اور ان کے پارٹی عہدے دار بھی نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…