منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ایاز صادق اسمبلی توڑنے کی باتیں کرکے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اعجازالحق نے سنگین الزام عائد کردیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

ہارون آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ ایم این اے اعجازالحق نے کہا ہے کہ سانحہ پشا ور اور کو ئٹہ سے ہماری سیاسی قیادت نے کچھ سبق نہیں سیکھے بلکہ مصلحتوں کا شکار ہو کر غیر ملکی ایجنڈے کی مدد کر رہے ہیں ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

انھوں نے کہا حکومت خود ہی غیر یقینی صورت حال پیدا کر کے ملک کے اقتصادی معاملات بگاڑ رہی ہے ،روپے کی قدر میں غیر معمولی ریکارڈ کمی سے معیشت تباہ ہو رہی ہے ،اسحاق ڈار کی طبیت ٹھیک نہیں تو حکومت ہنگامی طور پر کمیٹی بنائے ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اسمبلی توڑنے کی باتیں کرے تو ہاؤس کے ارکان کا تحفظ کون کرے گا ،حکومت حکمت عملی اپناکر سینٹ اور عام انتخابات خوش سلوبی سے وقت پر کروائے ، انہوں نے یہ بات زور دے دیا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کیوں کہ فاٹاکی عوام کو انگریزوں کے کالے قوانین سے انتہائی بے زار ہو چکے ہیں، ایک سوال کے جواب میں اعجازالحق نے کہا احکومتی ارکان کبھی ٹیکنو کریٹ حکومت اور عبوری حکومت کی باتیں کر کے حکومتی رٹ کو کمزور کر رہے ہیں ،اداروں کا احترام اور قانون کی بالا دستی کو تسلیم کرنا چاہیے ،اداروں کے فیصلوں پر خوش اسلوبی سے عمل درآمد کرنا چاہیے ،اس موقع پر چوہدری غلام مرتضی ایم پی اے نے اپنے خطاب میں کہا کہ چھ کروڑ کی لاگت سے ٹف ٹائل اور سیوریج کے ترقیاتی کام کروائے جائیں گے ،مزید فنڈ آنے والے ہیں تین ماہ کے اند رفقیروالی شہر کا نقشہ بدل دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…