جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چند دن میں ہی ریکارڈ ٹوٹ گئے،روپیہ گرنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کتنے ارب کا اضافہ ہوا؟آئی ایم ایف کی رپورٹ

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی سے ملک پربیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر تک قرضہ 85 ارب ڈالرپہنچ گیا اورایک سال میں اضافے کی یہ شرح 12.3 فیصدزیادہ ہے۔پچھلے سال ستمبرمیں پاکستان کامجموعی قرضہ 75ارب 80کروڑ ڈالر تھا جوایک سال میں9 ارب 30 کروڑ ڈالربڑھ گیا ہے۔

ان اعدادوشمارمیں پچھلے ماہ جاری کیے گئے ساورن بانڈ سے لیا گیا ڈھائی ارب ڈالر شامل نہیں ہے جب کہ ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 4.8فیصدکمی آئی اوراب ڈالر110.54 روپے کاہوگیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے بیرونی قرضوں کے ستمبرتک کے اعدادوشمارجاری کیے ہیں اس وقت ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت 105.40روپے تھی،روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی وجہ سے بیرونی قرضے 436ارب روپے بڑھ گئے ہیں۔آزاد معاشی ماہرین روپے کی قدرکی حوالے سے کافی عرصے سے متنبہ کررہے تھے اوران کاخیال تھا کہ روپے کی قدرجس روزاصل شکل میں آئی اس وقت ملک کے بیرونی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہوجائیگا۔سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقارمسعود نے روپے کی قدرمیں کمی کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں اضافہ کے مضمرات کوسامنے رکھتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ مالیاتی خسارہ کے اہداف پرنظرثانی کی جائے جب کہ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں مزید کمی کاامکان ہے۔دوسری جانب پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈفنگر نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دبا کا شکار رہیں گے جب کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تاستمبر مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں 2 ارب 10کروڑ ڈالربیرونی قرضوں کی ادائیگی پرخرچ کئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…