جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

فوج مداخلت کیوں کرتی ہے ،کیا سپریم کورٹ کے پیچھے فوج ہے؟ عمران خان کیسا شخص ہے؟پرویزمشرف کھل کر بول پڑے

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کی بہت بری حالت ہے جبکہ ملکی معیشت بھی تباہ حال ہے،دلی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت جلد از جلد رخصت ہوجائے اور عبوری حکومت جو ملک کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھا سکے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث ہی فوج مداخلت کرتی ہے اور جب آپ ملک کو تباہی کے راستے پر لے جا رہے ہوں تو آپ کو کون چلنے دے گا۔

سپریم کورٹ اچھا کام کر رہی ہے اور اگر فوج کا بھی اس میں کردار ہے تو یہ اچھی بات ہے کیونکہ آج ہر پاکستانی پریشان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کا حل یہی ہے کہ عبوری حکومت کو لایا جائے جو سپریم کورٹ کی اجازت سے قانون میں ترامیم بھی کر سکے اور کچھ مدت تک وہ حکومت کرے اور ملک کو پٹڑی پر چڑھائے۔پرویز مشرف نے کہا کہ اگر حکومت کے ختم ہونے کے بعد تین یا چھ ماہ کے لیے عبوری حکومت آتی ہے تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس وقت ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت ضروری ہے، اس وقت آئین سے زیادہ ملک کو بچانے اور جمہوری ترامیم کی ضرورت ہے۔نواز شریف اور عمران خان کے موازنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کبھی صادق اور امین نہیں رہے اور نواز شریف اور عمران خان کا اور ان کے کیسز کا موازنہ کرنا زیادتی ہے۔ عمران خان ایک دیانتدار شخص ہیں جن پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم اگر ہر چھوٹی بات کو دیکھا جائے تو پھر ہر آدمی بے ایمان ہے جبکہ عمران خان جھوٹ نہیں بولتے۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ ریاست کا ایک اہم ستون ہے لیکن کسی ستون کا دوسرے سے تصادم نہیں ہونا چاہیے اور ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام سیاسی رہنماؤں کو،لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت صرف عمران خان کے پاس ہے جسے ہم سب کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن ان کے پاس آنے کے بعد چند لوگوں کا ان سے نالاں ہوجانا ایک الگ بات ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…