پیر‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2025 

پاکستان کا 21 بین الاقوامی این جی اوز کو سرگرمیاں بند کرنے کا حکم

datetime 15  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)حکومت پاکستان نے ملک میں کام کرنے والی 21 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو اپنی سرگرمیاں ختم کرکے ملک سے جانے کا حکم دیا ہے۔ان بین الاقوامی تنظیموں کو دو سال قبل متعارف کرائے جانے سخت قوانین کے تحت خود کو دوبارہ رجسٹر نہ کرانے پر ملک سے جانے کا حکم دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ

حکومت کے اس فیصلے سے متعلق جن تنظیموں کو آگاہ کیا گیا ان میں جورج سوروز کے خیراتی ادارے ٗاوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ایکشن ایڈ بھی شامل ہیں تاہم پابندی کی زد میں آنے والی تنظیموں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ان تنظیموں کو اپنے دفاتر بند کرنے اور ملک چھوڑنے کیلئے دو ماہ کا وقت دیا گیا ہے ٗعہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت دیگر 19 بین الاقوامی تنظیموں کی دستاویزات کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہے جس کے بعد ان سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کے ترجمان جوناتھن برچال نے وزارت داخلہ کی جانب سے گروپ کی دوبارہ رجسٹریشن سے انکار کا خط ملنے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔گروپ نے چند روزقبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے انہیں اور دیگر تنظیموں کو 60 روز کے اندر پاکستان میں آپریشنز ختم کرنے حکم کے بعد اس کی وضاحت طلب کی گئی ۔بیان میں کہا گیا کہ 2015 میں پاکستان نے ملک میں کام کرنے والی تمام این جی اوز کو وزارت داخلہ میں خود کو رجسٹر کرانے کا حکم دیا تھا جس میں تنظیموں کو ان کی فنڈنگ کے اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرانے کا عمل بھی شامل تھا۔اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے کہا گیا کہ نومبر کے آخر میں وزارت داخلہ کی جانب سے درجن سے زائد بین الاقوامی این جی اوز کو خط لکھا گیا کہ ان کی رجسٹر

کرنے کی درخواست مسترد ہوچکی ہے تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔بیان کے مطابق اس حکم سے متاثر ہونے والی تنظیمیں 90 روز کے اندر درخواست دائر کر سکتی ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کیسے ہوگا؟پاکستان ہیومینیٹیرین فورم ٗجو کئی بین الاقوامی امدادی گروپوں کی نمائندگی کرتا ہے کا کہنا تھا کہ ان کے کام سے

پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی امدادی گروپوں نے 2016 میں فنڈنگ کے ذریعے ترقیاتی اور ایمرجنسی ریلیف پروگراموں کیلئے تقریباً 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کیے اور 5 ہزار مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محترم چور صاحب عیش کرو


آج سے دو ماہ قبل تین مارچ کوہمارے سکول میں چوری…

شاید شرم آ جائے

ڈاکٹرکارو شیما (Kaoru Shima) کا تعلق ہیرو شیما سے تھا‘…

22 اپریل 2025ء

پہلگام مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا چھوٹا…

27فروری 2019ء

یہ 14 فروری 2019ء کی بات ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے ضلع…

قوم کو وژن چاہیے

بادشاہ کے پاس صرف تین اثاثے بچے تھے‘ چار حصوں…

پانی‘ پانی اور پانی

انگریز نے 1849ء میں پنجاب فتح کیا‘پنجاب اس وقت…

Rich Dad — Poor Dad

وہ پانچ بہن بھائی تھے‘ تین بھائی اور دو بہنیں‘…

ڈیتھ بیڈ

ٹام کی زندگی شان دار تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی…

اگر آپ بچیں گے تو

جیک برگ مین امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھتے…

81فیصد

یہ دو تین سال پہلے کی بات ہے‘ میرے موبائل فون…

معافی اور توبہ

’’ اچھا تم بتائو اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے…