اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

ایاز صادق نے کس سازش سے آگاہ کیا؟ وزیراعظم مدت پوری نہیں کرسکا ،اسمبلیاں تو بڑی کمزور ہوتی ہیں، کیپٹن(ر) صفدر کے انکشافات

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی پر نیب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن(ر) صفدر نے کہا کہ ہم قانون بناتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں، اور اسی لئے ہائی کورٹ میں عدالتوں کے احترام میں پیش ہورہا ہوں۔کیپٹن صفدر نے کہا کہ اٹھائیس جولائی کے فیصلہ نے مدت پوری کرتی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش کی ٗ

جسے اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی دانشمندی کے ساتھ ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی پر کوئی بھی وار ہوا تو بوجھ ریاست اٹھائے گی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی تو کیپٹن (ر) محمد صفدر نے جواب دیا کہ جب وزیراعظم مدت پوری نہیں کر پایا تو اسمبلیاں تو بیچاری بہت کمزور ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو بھی خدشہ ہے کہ اسمبلیاں کسی سازش کا شکار پو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہر بات اپنے یمپائر سے پوچھتے ہیں ٗانہوں نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ ہے، ہمیں سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھنا چاہئے ۔قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی پر نیب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹن صفدر کی ضمانت منسوخی کے خلاف نیب کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے سماعت کی۔دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ کیپٹن (ر) صفدر کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرکے انہیں اڈیالہ جیل بھجوایا جائے، جب ان کی گرفتاری عمل میں آچکی تو اس کے بعد انہیں رہائی نہیں دی جاسکتی تھی بلکہ ڈویڑن بینچ ہی انہیں رہا کرسکتا تھا۔

اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا احتساب عدالت نے وارنٹ حاضری یقینی بنانے کیلئے جاری کیے تھے؟ جس پر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ جاری کرنے کا مقصد حاضری یقینی بنانا تھا ٗکیپٹن (ر) صفدر ہر پیشی پر حاضر ہو رہے ہیں اس لیے ان کی ضمانت منسوخی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا کیپٹن (ر) صفدر نے جو جرائم کیے ہیں ان میں ملزم کو گرفتار کرنا ضروری ہے، جس پر سردار مظفر نے بتایا کہ یہ تمام جرائم قابلِ گرفت ہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا آپ نے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔بعد ازاں ڈویژن بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدکیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…