جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

عمران خان نیازی کے نام کھلا خط

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

خان صاحب آپ کی معلومات کا زیادہ تر انحصار کیونکہ بلیک بیری پر ہے اور آپ اس ہی پر میسج کرنا اور پڑھنا پسند کرت ہیں مگر ہمارے جیسے ناچیز کا نا تو آپ میسج پڑھیں گے اور نا ہی کریں گے تو میں اسی فورم کا سہارا لیکر جس پر آپ نے شہباز شریف کے او آئی سی اجلاس میں شرکت پر سوال اٹھایا ہے اسی فورم پر آپ کو جواب دینا پسند کروں گا۔جناب پہلے تو آپ کی معلومات کی تصیح کے لئے عرض ہے کہ شہباز شریف صاحب کو ترک حکومت

نے او آئی سی اجلاس میں مدعو کیا تھا۔ اور یہ اجلاس او آئی سی کے اجلاسوں سے ہٹ کر بیت المقدس کے معاملے میں Extraordinary اجلاس تھا ۔ اس اجلاس کا مقصد امریکہ، اسرائیل سمیت اسلام دشمن ممالک کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم بیت المقدس کی حفاظت کے لئے ایک ہو کر آ رہے ہیں۔ کیونکہ ویسے ہی او آئی سی کا اجلاس آپ کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا تو آپ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہاں کیا ہوا بس آپ نے ایک تصویر دیکھ لی جس میں ترک صدر وزیر اعلیٰ سے مل رہے ہیں اور شاہد خاقان عباسی پیچھ کھڑے ہیں ۔ جناب پہلی بات تو یہ کہ وہ تصویر وزیر اعلیٰ کی فیس بک پر نشر کی گئی ہے تو اس میں وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہی دکھائی جائے گی نا کہ وزیراعظم کی ۔ آپ کی معلومات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ او آئی سی انتظامیہ نے اس اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان کے علاوہ شہباز شریف کو خاص اس لئے مدعو کیا گیا کہ امریکہ کی طرف سے اس احمقانہ عمل پر پاکستان سے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا ردعمل آیا جبکہ آپ سمیت تمام وزراءاعلیٰ آرام فرما رہے تھے ۔جناب مئی میں ہونے والے او بی او آر (OBOR) سمٹ میں پاکستان کے تمام وزراءاعلیٰ شریک ہوئے مصدقہ خبروں کے مطابق سمٹ میں شرکت کے علاوہ وزیر

اعلیٰ شہباز شریف نے چین میں سی پیک کی درجن میٹنگز میں شرکت کی اور درجنوں معائدے کئے مگر باقی وزراءاعلیٰ ان میٹنگز سے پرہیز کرتے رہے اور بالخصوص آپ کے خٹک صاحب او بی او آر سمٹ میں بھی پورا وقت موجود نا تھے اور کسی قریبی مارکیٹ میں خریداری کے لئے تشریف لے گئے ۔ یہیں سے دنیا کو پیغام جاتا ہے کہ کون ملک کے لیے یا اپنے لوگوں کے لئے دن رات ایک کر رہا ہے ۔۔جناب آپ دیکھیں دنیا کو کیا پیغام جاتا ہے کہ کون لیڈر ہے اور کون گیڈر ہے کون مشکل میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہا اور کون پہاڑوں پر چڑھ گیا۔جناب جاتے جاتے آپ کو ایک مفید مشورہ دیئے جاتا ہوں کہ آپ ان فضول کاموں سے پرہیز کریں اور اپنے صوبے میں کام کی طرف توجہ دیں ۔آپ کے پاس ابھی بھی خدمت کے لئے 6 ماہ ہیں اور ان 6 ماہ کو غنیمت جانیں اور ”شہباز سپیڈ” کے رول ماڈل کو اپنائیں اور کچھ کر کے دکھائیں۔

 



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…