اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے پرپابندی لگنے کا خطرہ، جہازسے غیرملکی ایئرپورٹ پر11کلوہیروئن کی برآمدگی ،گرفتار13افراد کون ہیں؟افسوسناک انکشافات

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آبا د(این این آئی) پی آئی اے کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں بروز جمعرات کمیٹی کے کنونیئر سینیٹر سید مظفرحسین شاہ کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کو ہیتھرو ایئر پورٹ پر پی آئی اے کی پرواز سے ہیروئن کی برآمدگی کے واقعے پرشہری ہوا بازی کے حکام اور انسداد منشیات کے محکمے کے سربراہان نے بریفنگ دی ۔

اے این ایف کے حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پی آئی اے کی پروازوں پر دیگر ممالک پابندی لگا سکتے ہیں ۔ اور اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اے این ایف کے حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے 13 پی آئی اے کے ملازم ہیں ۔کمیٹی نے کہا کہ 11 کلو ہیروئن کی برآمدگی معمولی بات نہیں ۔تاہم 6 مہینے سے کوئی مناسب کارروائی نہیں کی جارہی ، جو افسران ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی اور اے این ایف سے بھی اس ضمن میں رپورٹ طلب کی ۔کمیٹی کو پی آئی اے کے جہاز میں دوران پرواز کاک پٹ میں خاتون کو بیٹھانے کے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ،پی آئی اے حکام نے بتایا کہ دوران پرواز کاک پٹ میں چینی خاتون کو بیٹھانے پر جہاز کے کپتان کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور پائلٹ نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے ۔ مشیر ہوا بازی نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ میں سینکڑوں مقدمات زیر التوا ء ہیں ۔کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ 8 ماہ سے حکم امتناعی ختم نہیں ہوا جو کہ

پی آئی اے کونسل کی ناکامی ہے ۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ محکمانہ انکوائری میں دونوں پائلٹ قصور وار نکلے تو کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔پریمیر سروس کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے چیئرمین پی آئی اے عرفان الہٰی نے کہا کہ پی آئی اے پریمیر سروس کی منظوری بورڈ نے دی ہے اور سروس اسلام آباد سے لندن کیلئے چلائی گئی اور اس سروس کیلئے ویٹ لیز پر ایک جہاز لیا گیا تھا ۔ پریمیر سروس کو 6 ماہ میں دو ارب 88 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا اور سروس کو بند کر کے ویٹ لیز پر لیا گیا

جہاز واپس کر دیا گیا ہے ۔ اراکین کمیٹی نے اس امر پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ بغیر کسی بزنس پلان کے یہ سروس کس طرح چلائی گئی ۔سینیٹر شیری رحمان نے تجویز دی کہ اس ضمن میں فیصلہ کرنے والے بورڈ کو بھی طلب کیا جائے۔آج کے اجلاس میں سینیٹرز شیری رحمان ، فرحت اللہ بابر ، سلیم مانڈوی والا، عثمان کاکٹر ، مشاہد اللہ خان ، جہانزیب جمال دینی ، تاج محمد آفریدی ، الیاس بلور ، کامل علی آغااور دیگر نے شرکت کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…