جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

روک سکو تو روک لو۔۔۔ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ ایجنسیاں) پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، آج مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 111روپے سے بھی تجاوز کر گئی، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 400 ارب بڑھ گیا، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ ڈالر کی قیمت کیوں بڑھی، ماہر معاشی امور پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم نے راز سے پردہ اٹھا دیا،

کہتے ہیں ڈالر کو مصنوعی طور پر 107 پر روکا گیا، آئی ایم ایف کے پریشر پر اوپن مارکیٹ سے منسلک ہوتے ہی ڈالر 111 روپے تک پہنچ گیا۔روپیہ کمزور اور ڈالر ایک بار پھر جان پکڑنے لگا، ڈالر کی پرواز ایک بار پھر اونچی ہوگئی، سٹیٹ بینک ڈالر کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہوگیا، ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ بھی سامنے آگیا، ماہرین معاشیات نے ڈالر 112 روپے تک جانے کا خدشہ ظاہر کردیا، ڈالر کی بڑھتی ہو ئی قیمت نے ملک کے قرضوں میں اضافے کیساتھ ساتھ مہنگائی کے طوفان کو بھی دستک دے دی۔ماہر معاشی امور پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ کی مداخلت کے باعث ڈالر کو 107 پر مصنوعی طور پر روکا گیا، ڈالر 112 روپے پر پہنچ کر مستحکم ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سیمہنگائی کا طوفان آئے گا، پروفیسر ڈاکٹر قیس نے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔سینئر نائب صدر لاہور چیمبر خواجہ خاور رشید نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں یکمشت اضافے سے پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونگی جس سے صنعت کی پیدواری لاگت اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھیں گے، انکا کہنا تھا کہ صنعتی خام مہنگا اور غیر ملکی ادایئگیوں میں راتوں رات اضافہ ہوگیا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے برآمدات میں اضافہ، درآمدی حجم میں کمی اور میڈ ان پاکستان کو فروغ دینا ہوگا، اندرونی سیاسی معاشی استحکام ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مستحکم کرے گا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…